تعلیمی سال دباؤ کاشکار، 298میں سے 116دن پڑھائی
سکیورٹی خدشات ،غیر اعلانیہ تعطیلات کے باعث 182 دن ضائع :رپورٹ
لاہور(خبر نگار)موجودہ تعلیمی سال میں تعلیمی نظام شدید دباؤ کا شکار نظر آ رہا ہے ۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال کے بیشتر دن تعطیلات کی نذر ہو چکے ہیں، جس کے باعث طلبہ کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے ۔ تعلیمی سال میں اب تک 298 دن گزر چکے ہیں، تاہم ان میں سے صرف 116 دن ہی تعلیمی سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔ہفتہ اور اتوار، شدید گرمی اور سردی کی تعطیلات، گزیٹڈ چھٹیاں، سیلاب، سکیورٹی خدشات اور غیر اعلانیہ تعطیلات کے باعث مجموعی طور پر 182 دن ضائع ہو چکے ہیں۔ماہرین کے مطابق جنوری اور فروری کے مہینوں میں مزید صرف 30 تعلیمی دن دستیاب ہوں گے ، جس کے بعد مارچ میں سالانہ امتحانات کا آغاز ہو جائے گا اور تدریسی عمل عملاً ختم ہو جائے گا۔ اس طرح رواں تعلیمی سال میں مجموعی طور پر صرف 146 دن ہی کلاسز ممکن ہو سکیں گی۔ تعلیمی ماہرین کی تحقیق کے مطابق مکمل نصاب پڑھانے کے لیے کم از کم 180 تدریسی دن ناگزیر ہوتے ہیں، جبکہ اگر امتحانات کو بھی شامل کر لیا جائے تو نصابی سرگرمیوں کے لیے 210 دن درکار ہوتے ہیں۔