مبینہ جھوٹے مقدمات، خاندان کا احتجاج، انصاف کا مطالبہ
وہاڑی (خبر نگار، نمائندہ خصوصی) تھانہ دانیوال پولیس کی مبینہ کارروائیوں اور جھوٹے مقدمات کے اندراج پر متاثرہ خاندان نے۔۔۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے ۔ نواحی علاقہ نو ڈبلیو بی کے رہائشی محمد اسلام نے اپنی والدہ اور اہل خانہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں مؤقف اختیار کیا کہ دو روز قبل پولیس کی پریس کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا سے معلوم ہوا کہ ان کے خلاف مقدمات درج کر کے انہیں مفرور قرار دیا گیا ہے جو سراسر زیادتی ہے ۔محمد اسلام کی والدہ نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کا ماضی میں نشہ کا مسئلہ تھا تاہم علاج کے بعد چھ ماہ سے وہ اس عادت سے توبہ کر چکا ہے ، اس کے باوجود پولیس انہیں مسلسل ہراساں کر رہی ہے ۔ اہل خانہ کا کہنا تھا کہ پولیس بغیر لیڈی کانسٹیبل کے کئی بار گھر میں داخل ہوئی، تلاشی کے دوران سامان کی توڑ پھوڑ کی گئی اور مبینہ طور پر نقدی بھی لے لی گئی۔اسلام کی اہلیہ نے کہا کہ مسلسل چھاپوں سے بچے خوفزدہ ہیں اور رات بھر جاگنے پر مجبور ہیں۔ خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب، آر پی او ملتان اور ڈی پی او وہاڑی سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لے کر میرٹ پر انکوائری کرائی جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ پولیس حکام کا مؤقف حاصل نہ ہو سکا۔