سکولوں میں صفائی کیلئے آگاہی مہم شروع کرنیکا فیصلہ
ویسٹ مینجمنٹ کرنیوالے سکول کو صفائی ایوارڈ دینے کا اعلان ،سرکاری سکولوں میں مختلف رنگوں کی ویسٹ بن کے استعمال کیلئے اساتذہ کو آگاہی فراہم کرنیکی ہدایات جاری ہر رنگ کی ٹوکری مخصوص قسم کے فضلے کے لیے مختص،مقصد طلبہ میں صفائی اور ماحولیاتی شعور کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ویسٹ مینجمنٹ کے موثر نظام کو یقینی بنانا ہے ، مراسلہ
ملتان (خصوصی رپورٹر)سکولوںمیں’’ویسٹ بن‘‘بارے شعوری مہم شروع کرنے کافیصلہ، ویسٹ مینجمنٹ کرنے والے سکول کو صفائی ایوارڈ دینے کا اعلان ، نمایاں کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کو تعریفی اسناد اور نقد انعامات سے نوازا جائے گا۔تفصیل کے مطابق محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبے بھر کے تمام سرکاری سکولوں میں نصب مختلف رنگوں کی ڈسٹ بن کے استعمال کے بارے میں اساتذہ کو آگاہی فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
اقدام کا مقصد طلبہ میں صفائی اور ماحولیاتی شعور کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ویسٹ مینجمنٹ کے موثر نظام کو یقینی بنانا ہے ۔ جاری مراسلے کے مطابق تمام سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز اور اساتذہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ طلبہ کو مختلف رنگوں کی ٹوکریوں کے استعمال کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کریں کیونکہ ہر رنگ کی ٹوکری مخصوص قسم کے فضلے کے لیے مختص ہے ۔
ان ہدایات کے مطابق نیلے رنگ کی ٹوکری کاغذ، پرانے اخبارات، کاپیوں اور کارڈ بورڈ جیسے خشک کاغذی فضلے کے لیے ہے ، سبز رنگ کی ٹوکری نامیاتی فضلے جیسے پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے ، بچا ہوا کھانا اور خشک پتوں کے لیے ہے ، پیلا رنگ کی ٹوکری پلاسٹک کی بوتلوں، تھیلوں اور پیکیجنگ میٹریل کے لیے مخصوص ہے ، سرخ رنگ کی ٹوکری خطرناک فضلے جیسے ٹوٹے ہوئے شیشے ، بلب، بیٹریوں اور کیمیکل ویسٹ کے لیے ہے ، جبکہ سیاہ رنگ کی ٹوکری عام فضلے جیسے گندے کپڑے ، جوتے اور ربڑ کے لیے مختص ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ اساتذہ معاشرے کے معمار ہیں، اگر وہ خود ان ٹوکریوں کے استعمال کے بارے میں معلومات حاصل کر کے طلبہ کو آگاہ کریں گے تو یہ عادت بچوں میں بچپن سے ہی پروان چڑھے گی اور ہر سکول ایک مثال قائم کرے گا کہ وہاں کوڑا کرکٹ مناسب طریقے سے ٹوکریوں میں ڈالا جاتا ہے ۔
اس سلسلے میں محکمہ نے اساتذہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر ہفتے ایک کلاس خصوصی طور پر صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے موضوع پر منعقد کریں جس میں بچوں کو عملی طور پر بتایا جائے کہ کون سا فضلہ کس رنگ کی ٹوکری میں ڈالنا ہے ، والدین کے ساتھ خصوصی اجلاس بھی کرائے جائیں، نیز سکول کے احاطے میں مختلف رنگوں کی ٹوکریوں کے ساتھ چارٹس بھی آویزاں کیے جائیں تاکہ طلبہ کو فوری رہنمائی ملتی رہے ۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق فضلے کو الگ الگ کرنے سے ری سائیکلنگ میں آسانی ہوتی ہے ، زمین اور پانی کی آلودگی کم ہوتی ہے ، اور قدرتی وسائل کا تحفظ ہوتا ہے ، اور اگر سکولوں میں یہ نظام کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ پوری قوم کے لیے ایک مثال قائم کرے گا تمام سی ای اوز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اس ہدایت پر عملدرآمد کی رپورٹ ہر ماہ محکمہ کو جمع کرائیں، اور سکولوں کے انسپکشن کے دوران اس پہلو کا خاص طور پر جائزہ لیا جائے گا۔