برادری تنازع، مسجد دو سال سے بند، نمازی پریشان

برادری تنازع، مسجد دو سال سے بند، نمازی پریشان

غنی والا میں مسجد نورانی کو کھلوانے ، اوقاف کے حوالے کرنے کا مطالبہ

جودھ پور ،چوپڑ ہٹہ،بارہ میل(نمائندہ دنیا)کبیروالا کے نواحی علاقے غنی والا میں گجر برادری کے باہمی تنازع کے باعث مسجد نورانی گزشتہ دو سال سے بند پڑی ہے ، جس سے نمازیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ علاقہ مکینوں نے کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر خانیوال سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق تھانہ بارہ میل کی حدود میں واقع غنی والا کی مسجد نورانی کو گجر برادری کے دو گروپوں کے درمیان جاری رنجش کے باعث تالے لگا کر بند کر دیا گیا تھا جو تاحال نہیں کھولی جا سکی۔ مقامی معززین اور سماجی شخصیات نے متعدد بار فریقین کے درمیان صلح کرانے اور معاملہ حل کرنے کی کوشش کی، تاہم تمام کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف تھانہ بارہ میل میں تین سے چار مقدمات بھی درج کروا رکھے ہیں، جس کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مسجد کی بندش سے نمازی سخت پریشان ہیں اور عبادت کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔اہلیان علاقہ نے بتایا کہ مسجد کی تعمیر پر خطیر رقم خرچ کی گئی تھی اور یہ ایک خوب صورت عبادت گاہ ہے ، تاہم دو سال سے بند رہنے کے باعث عمارت کے مختلف حصے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرمی کے موسم میں دیکھ بھال نہ ہونے سے مسجد کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ۔عوامی، سماجی اور مقامی معززین نے کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر خانیوال سے اپیل کی ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے ، مسجد کو نمازیوں کے لیے کھلوایا جائے اور مستقل حل کے لیے اسے محکمہ اوقاف کے حوالے کیا جائے تاکہ عبادت کا سلسلہ بحال ہو سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں