بجٹ معاشی استحکام کے دعوؤں کی نفی کررہا، ثناء اللہ سہرانی
زرعی ملک ہونے کے باوجود زراعت کیلئے انتہائی قلیل رقم رکھی گئی
ملتان (کرائم رپورٹر) سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی جنوبی پنجاب ثناء اللہ سہرانی نے وفاقی بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ عوامی فلاح کے بجائے قرضوں کی ادائیگی، اشرافیہ کے مفادات اور عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط کی تکمیل پر مبنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کے دعوے کر رہی ہے ، لیکن بجٹ کے اعداد و شمار خود ان دعوؤں کی نفی کر رہے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود زراعت کے لئے انتہائی قلیل رقم مختص کی گئی ہے ۔ثناء اللہ سہرانی کے مطابق صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں کے لئے بھی ناکافی وسائل رکھے گئے ہیں، جبکہ بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں پر سود اور غیر پیداواری اخراجات کی نذر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر 100 روپے میں سے بڑا حصہ سود کی ادائیگی اور انتظامی اخراجات پر خرچ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور ترقیاتی منصوبے پس منظر میں چلے گئے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجٹ کی ترجیحات ازسرنو طے کی جائیں، زراعت، تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں کو ترجیح دی جائے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک ایسے معاشی نظام کی خواہاں ہے جو سودی معیشت کے بجائے عوامی خوشحالی، انصاف اور خود انحصاری پر مبنی ہو۔