سرکاری سکول اساتذہ کی ریشنلائزیشن اگست سے شروع
طلبہ تعداد، میرٹ اور شفاف آن لائن ڈیٹا کی بنیاد پر اساتذہ تعینات کئے جائینگے
ملتان (خصوصی رپورٹر)محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے اگست 2026 سے صوبہ بھر کے سرکاری پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں میں اساتذہ کی ریشنلائزیشن کے عمل کی حتمی منظوری دے دی ہے ۔ اس اقدام کا مقصد اساتذہ کی کمی یا ضرورت سے زائد تعیناتی والے سکولوں میں تدریسی عملے کا متوازن اور منصفانہ انتظام یقینی بنانا ہے ۔ذرائع کے مطابق محکمہ نے تمام اضلاع کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای اوز)ایجوکیشن کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ طلبہ کی تعداد، منظور شدہ آسامیوں اور موجودہ تدریسی عملے کے ڈیٹا کی بنیاد پر ریشنلائزیشن مکمل کریں۔ ہر سکول کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ جہاں اساتذہ کی کمی ہے وہاں اضافی اساتذہ کو منتقل کیا جا سکے ۔محکمانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد سکولوں میں طلبہ کم جبکہ اساتذہ زیادہ ہیں، جبکہ کئی اداروں میں طلبہ کی بڑی تعداد کے باوجود تدریسی عملہ ناکافی ہے ۔ نئی پالیسی کے تحت اس عدم توازن کو ختم کرتے ہوئے طلبہ و اساتذہ کے مقررہ تناسب کے مطابق تعیناتیاں کی جائیں گی۔ریشنلائزیشن کا عمل سکول انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم اور آن لائن ڈیٹا کی بنیاد پر مکمل کیا جائے گا تاکہ شفافیت برقرار رہے اور میرٹ کے مطابق تبادلے عمل میں لائے جا سکیں۔ تعلیمی حکام کے مطابق اس عمل سے تدریسی نظام بہتر ہوگا، اساتذہ کی کمی کے شکار سکولوں کو فوری ریلیف ملے گا اور طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولتیں میسر آئیں گی۔دوسری جانب اساتذہ تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ریشنلائزیشن کے دوران شفافیت، میرٹ اور اساتذہ کے انفرادی و خاندانی حالات کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ کسی استاد کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔