ٹیکسٹائل ملز کے 1200 ملازمین کا احتجاج شدت اختیار کرگیا

ٹیکسٹائل ملز کے 1200 ملازمین کا احتجاج شدت اختیار کرگیا

بقایا 60 کروڑ تنخواہوں کا معاملہ، کاٹن گانٹھیں منتقل کرنے کی کوشش ناکام دی تحصیل بارکی قرارداد مذمت منظور ،ملز ملازمین کی تنخواہیں فوری اداکرنیکا مطالبہ

چوک سرور شہید(نمائندہ دنیا)ٹیکسٹائل ملز کے 1200 ملازمین کی چھ ماہ سے واجب الادا تنخواہوں کا معاملہ مزید سنگین ہوگیا، مزدوروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ملز انتظامیہ نے رات کی تاریکی میں گودام سے کروڑوں روپے مالیت کی بینک پلج کاٹن کی گانٹھیں منتقل کرنے کی کوشش کی جسے احتجاجی ملازمین نے ناکام بنا دیا۔تفصیلات کے مطابق تحصیل چوک سرور شہید کے سنانواں موڑ پر واقع ٹیکسٹائل ملز کے ورکرز گزشتہ کئی روز سے بقایا تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ ملازمین نے دونوں گیٹ بند کر رکھے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ چھ ماہ کی واجب الادا تنخواہیں فوری ادا کی جائیں۔مزدوروں کے مطابق گزشتہ ماہ انتظامیہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ بقایا جات کی ادائیگی تک مل سے نہ کوئی سامان باہر منتقل کیا جائے گا اور نہ ہی اندر لایا جائے گا۔ تاہم مبینہ طور پر مل انتظامیہ نے رات کے وقت گودام میں موجود کروڑوں روپے مالیت کی کاٹن کی گانٹھیں ٹرالرز کے ذریعے باہر لے جانے کی کوشش کی۔ورکرز نے ٹرالرز کو گیٹ بند کرکے روک دیا اور حبیب بینک لمیٹڈ کے حکام کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا۔ احتجاجی ملازمین نے ٹرالرز کی آمدورفت روکنے کے لیے گیٹ کے سامنے گڑھے بھی کھود دئیے ۔واقعہ کے بعد پولیس اور تحصیل انتظامیہ نے صورتحال پر نظر رکھنا شروع کر دی ہے ۔ دوسری جانب تحصیل بار ایسوسی ایشن چوک سرور شہید نے قرارداد مذمت منظور کرتے ہوئے ملز ملازمین کی بقایا تنخواہوں کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...