ہائر ایجوکیشن، گریڈ 20 میں تعیناتیوں پر پروفیسرز نے تحفظات
مجوزہ تبادلوں پر نظرثانی، علاقائی توازن اور یکساں پالیسی اپنانے کا مطالبہ
ملتان (خصوصی رپورٹر)ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے گریڈ 19 سے گریڈ 20 میں ترقی پانے والے مردانہ کالجز کے پروفیسرز کی مجوزہ تعیناتیوں پر جنوبی پنجاب کے اساتذہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ پروفیسرز کا مؤقف ہے کہ مجوزہ پالیسی کے تحت جنوبی پنجاب کے ترقی پانے والے اساتذہ کو دور دراز اضلاع میں تعینات کیا جا رہا ہے ، جبکہ اپر پنجاب کے بیشتر پروفیسرز کو ان کے موجودہ یا قریبی کالجز میں تعیناتی دی جا رہی ہے ۔اساتذہ کے مطابق اس پالیسی سے علاقائی عدم توازن پیدا ہوگا اور محکمانہ امتیاز کا تاثر مضبوط ہوگا۔
۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کے بیشتر پروفیسرز ملازمت کے آخری مرحلے میں ہیں، اس لئے دور دراز تبادلے صحت، خاندانی ذمہ داریوں اور سفری مشکلات کے باعث ان کے لئے شدید مسائل پیدا کریں گے ۔متاثرہ پروفیسرز نے نشاندہی کی کہ ماضی میں گریڈ 19 میں ترقی پانے والے مردانہ پروفیسرز کو ان کے موجودہ کالجز میں آسامیوں کی اپ گریڈیشن کے ذریعے ایڈجسٹ کیا گیا تھا، جبکہ گریڈ 20 میں ترقی پانے والی خواتین پروفیسرز کو بھی موجودہ تعیناتیوں پر برقرار رکھا گیا تھا۔، جس سے تدریسی تسلسل اور انتظامی استحکام برقرار رہا۔اساتذہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ تعیناتیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے ترقی پانے والے پروفیسرز کو ان کے موجودہ کالجز میں ہی تعینات کیا جائے تاکہ مساوی سلوک، علاقائی توازن اور تعلیمی استحکام برقرار رہ سکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments