جعلی وکالتی لائسنس سکینڈل، پنجاب بار کونسل کا اہلکار برطرف

جعلی وکالتی لائسنس سکینڈل، پنجاب بار کونسل کا اہلکار برطرف

ایگزیکٹو کمیٹی کی انکوائری مکمل، بے ضابطگیوں پر سخت کارروائی کا فیصلہ

ملتان (کورٹ رپورٹر)پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے جعلی وکالتی لائسنسوں کے اجرا اور اندراج میں بے ضابطگیوں پر کارروائی کرتے ہوئے اپنے ایک اہلکار جاوید اقبال کو ملازمت سے برطرف کر دیا، جبکہ متعلقہ ریکارڈ کی مزید جامع جانچ کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔کمیٹی کے مطابق نئی انتظامیہ نے اندراجی ریکارڈ کی جانچ کے دوران انکشاف کیا کہ دو اصل وکلاء کے ریکارڈ پر دیگر افراد کے نام سے جعلی لائسنس جاری کئے گئے ۔ تحقیقات کے دوران محمد نسیم ایڈووکیٹ اور سہیل مشتاق نے اپنے تعلیمی ریکارڈ، ایل ایل بی اسناد اور دیگر دستاویزات پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اندراج، لائسنس کے اجرا اور تجدید کے نام پر ان سے رقوم وصول کی گئیں۔ انکوائری میں واٹس ایپ پیغامات، جاز کیش ریکارڈ اور دیگر شواہد بھی شامل کئے گئے۔

ایگزیکٹو کمیٹی نے جاوید اقبال کا جواب غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انکوائری سید ذیشان حیدر ایڈووکیٹ اور عمر حیات بھٹی ایڈووکیٹ کے سپرد کی۔ رپورٹ میں دستاویزات کی غلط تصدیق، جعلی لائسنسوں کے اجرا میں سہولت کاری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی نشاندہی کی گئی، جس پر انہیں فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا، جبکہ ایک اور اہلکار شہریار امیر کو غفلت برتنے پر سرزنش کی سزا دی گئی۔چیئرمین پنجاب وکلاء محاذ رانا امجد علی امجد ایڈووکیٹ نے فیصلے کو قانون کی بالادستی، شفافیت اور احتساب کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جعلی لائسنسوں اور غیر قانونی اندراجات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہنی چاہیے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...