کاشتکاروں سے سستا کینو خرید کر مہنگے داموں فروخت ہونے لگا
فیکٹری مالکان 1200سے 1400روپے تک کینو کی پیٹی خرید کر1500میں بیچ رہے حکومت کینو کی خرید وفروخت اورقیمتوں میں فوری طور پر مداخلت کرے ،کاشتکار
سرگودھا(سٹاف رپورٹر)رواں برس اگر چہ کینو کی فصل بہتر ہوئی ہے مگر اس کے باوجود ضلع سرگودھا اور دیگر علاقوں میں کاشتکار شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں، فیکٹری مالکان 1200 سے 1400 من کینو انتہائی کم نرخوں پر خرید کر 9 کلو کی پیٹی 1500 روپے تک فروخت کر رہے ہیں، جسے کاشتکار طبقہ کھلا ظلم اور استحصال قرار دے رہا ہے ،ذرائع کے مطابق کینو کی ایکسپورٹ سے بھاری منافع فیکٹری مالکان اور برآمد کنندگان سمیٹ رہے ہیں، جبکہ اصل محنت کرنے والا کاشتکار دونوں ہاتھوں سے لٹ رہا ہے ،کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جبکہ دوسری جانب فیکٹری مالکان اور ایکسپورٹرز نے افغان بارڈر بند ہونے کو جواز بنا کر مصنوعی طور پر ریٹس کم کر دیے ، حالانکہ زمینی حقائق کے مطابق کینو کی برآمدات بدستور جاری ہیں، موجودہ قیمتوں میں نہ تو کھاد، ادویات، مزدوری اور آبپاشی کے اخراجات پورے ہو رہے ہیں اور نہ ہی انہیں اپنی محنت کا مناسب معاوضہ مل رہا ہے ۔کاشتکار تنظیموں اور زرعی ماہرین نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کینو کی خرید و فروخت، قیمتوں کے تعین اور برآمدات کے نظام میں فوری مداخلت کی جائے ، فیکٹری مالکان اور ایکسپورٹرز کے من مانی نرخوں کا نوٹس لیا جائے اور کسانوں کو ان کی محنت کا جائز حق دلایا جائے ، بصورتِ دیگر زرعی شعبہ شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے جو ملکی معیشت اور برآمدات دونوں کے لیے خطرہ ثابت ہو گا۔