کھاد اور سپرے سے زمیندار کی محنت کم، فصل اور معاوضہ زیادہ ، زمین تباہ

 کھاد اور سپرے سے زمیندار کی محنت کم، فصل اور معاوضہ زیادہ ، زمین تباہ

زمین کھا د اور سپرے کی عادی ،اس طریقہ کار سے ہٹ کر بہتر فصل کا حصول ممکن نہیں رہا ، زمین کو بے اثر کرنے میں جعلی کھاد اور زرعی ادویات کے استعمال کا بھی عمل دخل

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سابقہ ادوار میں فصلوں کی تیاری کے حوالہ سے محض گوبر وغیرہ کی شکل میں ملنے والی قدرتی کھاد پر انحصار کیاجاتا تھا مگرکھاد کے متعارف ہونے کے بعد نت نئے زہریلے سپرے بھی مارکیٹ میں آنے لگے جن کی بھرمار ہے ، کھاد اور سپرے کے استعمال سے اگرچہ زمیندار کی محنت کم، فصل و معاوضہ زیادہ ہوگیا مگر اس کی زمین تباہ ہوکر رہ گئی، کیوں کہ اب زمین اس عمل کی عادی ہوچکی ہے اور اس طریقہ کار سے ہٹ کر بہتر فصل کا حصول ممکن نہیں رہا ، زمین کو بے اثر کرنے میں جعلی کھاد اور زرعی ادویات کے استعمال کا بھی عمل دخل ہے ، بدقسمتی سے متعلقہ محکموں کا رویہ اس کی روک تھام کی بجائے جعلی کھاد اور زرعی ادویات کے فروغ کا سبب بنا ہوا ہے۔

حکومت پنجاب کی طرف سے پیداوار میں اضافہ کیلئے محکمہ زراعت کو آگاہی مہم کیلئے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کئے گئے ،مگر یہاں مقامی دو نمبر کمپنیوں کی مالی معاونت سے مختلف مقامات پر سیمینارز وغیرہ کروانے کا سلسلہ ایک عرصہ سے جار ی ہے جن میں انہی کمپنیوں کی پراڈکٹ کی تشہیر کی جاتی ہے جبکہ عملدرآمد کے طور پر مثبت رپورٹ حکومت کو اخراجات کے ہمراہ بھجوادی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں صوبائی حکام نے نوٹس بھی لیا مگر معاملات اثر و رسوخ استعمال کر کے دبادیئے گئے۔ شکایات کے حوالے سے کسانو ں کا کوئی پرسان حال نہیں، انہوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں