چشمہ بیراج کی جھیلوں پر مہمان پرندوں کا بے دریغ شکار جاری

چشمہ بیراج کی جھیلوں پر مہمان پرندوں کا بے دریغ شکار جاری

چشمہ بیراج کی جھیلوں پر مہمان پرندوں کا بے دریغ شکار جاری کونج، راج ہنس، چینہ، بطخ، نیل سر، مرغابی سمیت کئی نایاب نسلوں کا شکار کیا جاتا

کندیاں( نمائندہ دنیا)محکمہ وائلڈ لائف کی روایتی سستی اور مبینہ ملی بھگت کے باعث چشمہ بیراج کی جھیلوں پر مہمان پرندوں کا بے دریغ شکار جاری ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ان پرندوں کی نسل کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں بلکہ ان جھیلوں کی قدرتی خوبصورتی بھی ماند پڑتی جارہی ہے وسط ایشیائی ریاستوں اور سائبیرین خطوں سے یہ خوبصورت آبی پرندے چشمہ بیراج کی نیلگوں جھیلوں کا رخ کرتے ہیں ان کی آمد سے فضا میں رنگ بکھر جاتے ہیں، آسمان قوسِ قزح کا منظر پیش کرتا ہے اور ان کی چہچہاہٹ ماحول میں رس گھول دیتی ہے نومبر سے شروع ہونے والی ان کی آمد کا سلسلہ فروری اور مارچ تک جاری رہتا ہے ۔کونج، راج ہنس، چینہ، بطخ، نیل سر، لال سر، مرغابی، آبی باز سمیت کئی نایاب نسلوں کے پرندے سینکڑوں میل کا سفر طے کرکے یہاں پہنچتے ہیں مگر افسوس کہ ان جھیلوں پر اترتے ہی ان کا سامنا بے رحم شکاریوں سے ہوتا ہے ، جو ان معصوم مہمانوں کا بے دریغ شکار کرکے ان کی تعداد میں خطرناک حد تک کمی کا باعث بن رہے ہیں۔مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ وائلڈ لائف روایتی غفلت ترک کرکے ان غیرقانونی شکاریوں کے خلاف سخت کارروائی کرے تو نہ صرف ان نایاب پرندوں کی نسل محفوظ ہوسکتی ہے بلکہ چشمہ بیراج کا قدرتی حسن بھی برقرار رکھا جاسکتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں