نئی ہائوسنگ سکیموں کے اجرا پابندی لگانے پر غور شروع
سیوریج او رپینے کے صاف پانی کے دستیاب وسائل اور مجموعی طلب کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کیلئے یہ اقدام اٹھایاجا رہا،پہلے یہ مسئلہ نظر انداز کیا گیا ،ذرائع
سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) ضلع بھر میں نئی ہاؤسنگ سکیموں کے اجراء پر پابندی لگانے پر غور کیا جا رہا ہے ، ذرائع کے مطابق یہ اقدام ضلع میں سیوریج او رپینے کے صاف پانی کے دستیاب وسائل اور مجموعی طلب کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کیلئے اٹھایاجا رہا ہے ،انتظامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں نئی رہائشی آبا دیوں کی منظوری دیتے وقت پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور سیوریج کے مسائل کو نظر انداز کیاگیا ،کسی بھی علاقے میں بننے والی ہاؤسنگ کالونی کے سیوریج اور پانی کے کنکشن اندرون خانہ ڈیل کر کے دیئے گئے اور سیوریج کے نظام اور پینے کے پانی بوجھ ملحقہ علاقوں پر ہی ڈال کر فرضی بجٹ تیار کر کے مسائل کو سنوارنے کے بجائے مزید بگاڑپیدا کیاگیا ،
یہی وجہ ہے کہ شہر سمیت ضلع کی دیگر تحصیلوں میں سیوریج اور پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے حالیہ پچیس سالوں کے دوران اربوں روپے لگانے کے باوجود ڈیمانڈ کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا اور اس کے ساتھ ساتھ میونسپل کارپوریشن اور دیگر بلدیاتی ادارے شدید مالی بحران کاشکار ہوتے گئے جبکہ اداروں کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے ،ضلعی انتظامیہ کے مطابق وزیر اعلی کے خصوصی پیکج کے ذریعے متذکرہ بنیادی مسائل کو حل کرنے کیلئے 13ارب روپے کا میگا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے اس سلسلہ میں شہر میں پینے کے صاف پانی کی فر اہمی اور سیوریج کیلئے بھی سکیموں کو حتمی شکل دے دی گئی ، اس میگا منصوبہ کی تکمیل تک کسی بھی نئی ہاؤسنگ سکیم کو منظور نہ کرنے کی تجاویز پر غور کے ساتھ ساتھ قوائد و ضوابط سمیت دیگر قانونی مراحل پر نظرثانی کی جا رہی ہے ،اور آئندہ ایسی کسی رہائشی سکیم کا نقشہ منظور نہیں کیا جائیگا جس میں فراہمی ونکاسی آب کی مکمل سہولت او رواٹر فلٹریشن کے علاوہ ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب نہیں ہوں گے ۔