ناقص اشیا کی فروخت کی روک تھام خواب بن کر رہ گئی

ناقص اشیا کی فروخت کی روک تھام خواب بن کر رہ گئی

ناقص اشیا کی فروخت کی روک تھام خواب بن کر رہ گئی مضر صحت اور ناقص مصالہ جات و دیگر اشیاء کی پنجاب بھرمیں فروخت جاری

سرگودھا(نعیم فیصل سے ) ضلع میں ملاوٹ مافیا کے خلاف موثر حکمت عملی نہ اپنانے اور ڈنک ٹپاؤ پالیسی کے باعث ناقص اشیاء خوردونوش کی تیاری و فروخت کی روک تھام خواب بن کر رہ گئی اور بااثر مافیاکے خلاف کاروائی ٹھپ ہونے سے معاملات دگرگوں ہونے لگے ہیں ذرائع کے مطابق ویجی لینس کا موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے فیکٹریوں میں تیارشدہ مضر صحت اور ناقص مصالہ جات ، چائے کی پتی اور دیگر اشیاء کی پنجاب بھر میں وسیع پیمانے پر فروخت کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، اکثر فیکٹریاں سیاسی افراد کی ملکیت ہیں جن کے خلاف سوائے نوٹسز جاری کرنے کے کسی قسم کا ایکشن نہیں ہوتا ،ا س امر کا واضح ثبو ت یہ ہے کہ قبل ازیں اس حوالے سے ملکوال،چکوال،لالہ موسیٰ ،منڈی بہاؤ الدین سمیت مختلف اضلاع کی فوڈ اتھارٹیز نے سرگودھا کی بعض فیکٹریوں سے تیارہ شدہ اپنے علاقوں میں فروخت ہونیوالے مصالہ جات اور چائے کی پتی کے نمونہ جات حاصل کر کے لیبارٹری کو بھجوائے جوانتہائی ناقص قرار دیئے جانے پر مالکان کی نشاندہی کرتے ہوئے نمونہ جات کے نتائج بھی سرگودھا کی سابقہ ضلعی انتظامیہ کو ارسال کئے تھے ،مگر معاملات ٹھپ کر دیئے گئے یہی نہیں مانیٹرنگ ادارے کی جانب سے پیورفوڈ آرڈیننس کی سرگودھا میں عملدراری کی مجموعی صورتحال غیر تسلی بخش قراردی جا چکی ہے ، دوسری جانب حکام کا دعویٰ ہے کہ آرڈیننس پر سو فیصد عملدرآمد اور شہریوں کو پیورفوڈ تک بآسانی رسائی کیلئے فیلڈ ٹیمیں متحرک ہیں اور بے ضابطگی سامنے آنے پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں