تھریشر مشینوں کے استعمال نے ماحولیاتی مسائل کو جنم دے دیا

 تھریشر مشینوں کے استعمال نے ماحولیاتی مسائل کو جنم دے دیا

تھریشر مشینوں کے استعمال نے ماحولیاتی مسائل کو جنم دے دیا مشینوں سے اڑنے والی گرد و غبار کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

کندیاں (نمائندہ )کندیاں، چشمہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں گندم کی کٹائی کے بعد شہری آبادیوں کے اندر تھریشر مشینوں کے استعمال نے ماحولیاتی اور صحت کے مسائل کو جنم دے دیا ہے تھریشر مشینوں سے اڑنے والی گرد و غبار کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور سانس، دمہ اور دیگر الرجی کی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ گندم کی تھریشر مشینیں رہائشی علاقوں اور آبادیوں کے قریب لگائی جا رہی ہیں جس سے اٹھنے والی گرد فضا میں پھیل کر گھروں کے اندر تک داخل ہو جاتی ہے خصوصاً بچے ، بزرگ اور پہلے سے سانس کے مریض اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں شہریوں کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران کھانسی، سانس کی تکلیف اور دمہ کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث لوگ اسپتالوں اور کلینکس کا رخ کرنے پر مجبور ہیں  شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں تھریشر مشینوں کے استعمال پر فوری پابندی عائد کی جائے یا انہیں آبادی سے دور کھلے مقامات تک محدود کیا جائے تاکہ عوام کو اس اذیت سے نجات مل سکے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھریشر سے اڑنے والی باریک دھول انسانی پھیپھڑوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہے اور مسلسل اس کے زیر اثر رہنے سے دمہ، برونکائٹس اور دیگر سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں