ملک کی بڑی انڈسٹری تباہی کے دہانے پر ،چیمبر آف کامرس

 ملک کی بڑی انڈسٹری تباہی کے دہانے پر ،چیمبر آف کامرس

مستقبل قریب میں ملک میں نہ صرف معاشی استحکام متاثر ہوگا

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سنیئر نائب صدر میاں محمد عمران نے کہا ہے کہ پاکستان میں ناکافی سہولتوں کے باعث ملک کی سب سے بڑی انڈسٹری تباہی کے دہانے پر ہے جس سے 7 لاکھ سے زائد مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں 150 ٹیکسٹائل ملز مکمل بند ہیں 30 فیصد فیکٹریاں جزوی طور پر چل رہی ہیں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مہنگا خام مال اور ٹیکسز کی بھرمار کے علاوہ عالمی آرڈرز میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ کھربوں روپے ٹیکس دینے والی یہ انڈسٹری حکومتی عدم توجہی کے باعث کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے مستقبل قریب میں ملک میں نہ صرف معاشی استحکام متاثر ہوگا بلکہ پاکستان پر مزید قرضوں کا بوجھ بڑھے گا میاں محمد عمران نے کہا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کیے بغیر اس انڈسٹری کا چلنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

جبکہ مہنگا خام مال اور ٹیکسز اس کی تباہی میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر حکومت 7 لاکھ بے روزگار ہونے والے مزدوروں کے لیے روزگار کا بندوبست کرے اور جو 150 ملیں بند پڑی ہیں ان کو بحال کرنے کے لیے بھی جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور جو 30 فیصد فیکٹریاں جزوی فعال ہیں انہیں مکمل فعال کرنے کے لیے بھی کردار ادا کرنا ہوگا میاں محمد عمران نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں معاشی استحکام اہم کردار ادا کرتا ہے اس طرف حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں معاشی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین تر ہوتا جا رہا ہے

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں