بھیرہ :ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کو کالج کا درجہ نہ مل سکا، طلبہ کو مشکلات

بھیرہ :ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کو کالج کا درجہ نہ مل سکا، طلبہ کو مشکلات

بھیرہ :ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کو کالج کا درجہ نہ مل سکا، طلبہ کو مشکلاتادارے کی انتظامیہ کی عدم توجہی اور متعلقہ حکام کی غفلت سے مسائل جوں کے توں

بھیرہ (نامہ نگار) ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ بھیرہ کو 25 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال ٹیکنیکل کالج کا درجہ نہ مل سکا، جس کے باعث علاقے کے سینکڑوں غریب طلبہ جدید اور اعلیٰ ٹیکنیکل تعلیم سے محروم ہیں۔سماجی و تعلیمی حلقوں کے مطابق ادارے کی انتظامیہ کی عدم توجہی اور متعلقہ حکام کی غفلت کے باعث یہ اہم تعلیمی ادارہ اپنی مکمل استعداد کے مطابق فعال نہیں ہو سکا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ادارے کی منظوری محقق اور ادیب ابو شاہین فاروقی کی کاوشوں اور سابق بیوروکریٹ غلام مرتضیٰ پراچہ کی کوششوں سے عمل میں آئی تھی۔ریلوے روڈ بھیرہ پر واقع اس ادارے کی عمارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ذاتی دلچسپی سے مکمل کی گئی، جبکہ طلبہ کے لیے ضروری مشینری اور سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔اس کے باوجود طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ادارے کو ٹیکنیکل کالج کا درجہ نہ مل سکا، جس کے باعث بھیرہ اور گردونواح کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے ، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔اس صورتحال پر ناہیدہ محبوب الٰہی فاؤنڈیشن کے چیئرمین خواجہ زاہد نسیم ایڈووکیٹ، سرگودھا چیمبر آف کامرس کے رکن چوہدری محمد اجمل گوندل اور ویلفیئر کونسل تحصیل بھیرہ کے صدر چوہدری خالد محمود آرائیں نے بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ادارے کو فوری طور پر ٹیکنیکل کالج کا درجہ دیا جائے تاکہ مقامی طلبہ کو جدید تعلیم اپنے ہی علاقے میں میسر آ سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں