دریائوں اور نہروں کے کمزور پشتے خطرے کی گھنٹی

دریائوں اور نہروں کے کمزور پشتے خطرے کی گھنٹی

مون سون اور ممکنہ سیلابی صورتحال قریبی آبادیوں، زرعی اراضی اور بنیادی انفراسٹرکچر کے لیے سنگین خطرہ ،شہریوں میں سیلاب کے پیش نظر خوف اور تشویش

سرگودھا (سٹاف رپورٹر)متعلقہ محکموں کی مبینہ غفلت اور حفاظتی اقدامات میں سستی کے باعث دریائے جہلم، نہر لوئر جہلم اور مختلف راجباہوں کے سینکڑوں مقامات پر موجود خستہ حال اور کمزور پشتے آئندہ مون سون اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے دوران قریبی آبادیوں، زرعی اراضی اور بنیادی انفراسٹرکچر کے لیے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔ انٹیلی جنس ادارے کی ایک تازہ رپورٹ میں صوبائی حکام کو فوری حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ بروقت کارروائی نہ ہونے کی صورت میں بڑے پیمانے پر نقصان کا خدشہ ہے ۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ سیلاب کی صورت میں ضلع سرگودھا کے 217 دیہات کی 2 لاکھ 67 ہزار 878 آبادی، ضلع خوشاب کے 52 دیہات، ضلع میانوالی کے 42 دیہات کی 36 ہزار 769 آبادی، جبکہ ضلع بھکر کے 54 دیہات کی 1لاکھ 69 ہزار 404 آبادی متاثر ہو سکتی ہے  رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ صوبائی حکومت ہر سال دریاؤں اور نہروں کے پشتوں کی مضبوطی، مرمت اور حفاظتی کاموں کیلئے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کرتی ہے ، تاہم مقامی سطح پر ان منصوبوں پر مطلوبہ سنجیدگی سے عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ متعدد حساس مقامات پر پشتے اب بھی کمزور ہیں، جبکہ زمینی کٹاؤ میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق بعض پلوں اور اہم گزرگاہوں کے قریب حفاظتی پشتوں کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے گئے ، تاہم وہاں بھی مبینہ طور پر ناقص معیار کا تعمیراتی میٹریل استعمال ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے ان منصوبوں کی پائیداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دوسری جانب کئی ایسے مقامات موجود ہیں جہاں زمینی کٹاؤ کے باعث پشتے مزید کمزور ہو چکے ہیں اور قریبی دیہات، رہائشی آبادیوں اور سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

دریاؤں اور نہروں کے کنارے آباد شہریوں میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر خوف و ہراس اور تشویش پائی جا رہی ہے ۔رپورٹ میں صوبائی حکومت، محکمہ انہار، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ تمام حساس مقامات کا فوری تکنیکی سروے کرایا جائے ، کمزور پشتوں کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت اور مضبوطی کو یقینی بنایا جائے ، ناقص تعمیراتی کاموں کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے ، جبکہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع ہنگامی منصوبہ بندی مرتب کی جائے تاکہ انسانی جانوں، زرعی اراضی اور قومی املاک کو کسی بھی بڑے نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں