نواز شریف کارڈیالوجی کاطبی فضلہ تلف کرنے کے انتظامات

نواز شریف کارڈیالوجی کاطبی فضلہ تلف کرنے کے انتظامات

صرف مجاز ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ہی منتقل اور تلف کیا جا سکتا

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا میں خطیر لاگت سے تعمیر ہونے والے نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا میں طبی خدمات کے آغاز کے ساتھ ہی استعمال شدہ خطرناک طبی فضلہ محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے انتظامات نہ ہونے پر حکام نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کر دیا، تاکہ انسانی صحت اور ماحولیات کو لاحق ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے ، ذرائع کے مطابق 200 بستروں پر مشتمل نو قائم شدہ نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے آزمائشی طور پر باقاعدہ طبی خدمات کا آغاز کر دیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر متعدی ہسپتالی فضلہ پیدا ہو رہا ہے ،جو کہ پنجاب ہسپتال ویسٹ مینجمنٹ رولز اور ماحولیاتی قوانین کے تحت صرف مجاز ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ہی جمع، منتقل اور تلف کیا جا سکتا ہے۔

جبکہ اس حوالے سے ادارے میں ییلو روم جدید کولنگ سسٹم کے ساتھ قائم تو کیا گیا ہے ،مگر اس وقت ادارے میں اس فضلے کی کلیکشن، منتقلی اور محفوظ تلفی کے لیے تاحال کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس استعمال شدہ خطرناک فضلہ کو بروقت اور محفوظ انداز میں تلف نہ کیا گیا تو اس کے غلط استعمال، دوبارہ فروخت اور انفیکشن کے پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے ، جس پر ہسپتال انتظامیہ نے خبر دار کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر نشاندہی کی ہے کہ ڈاکٹر فیصل مسعود ٹیچنگ ہسپتال میں ہیپاٹائٹس اینڈ انفیکشن کنٹرول پروگرام کا نصب شدہ انسینیریٹر بھی محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے ، اس لیے نامزد ویسٹ مینجمنٹ سروس فراہم کنندہ کے ذریعے فوری طور پر فضلہ اٹھانے اور ماحولیاتی اصولوں کے مطابق تلف کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...