اوقاف کی جائیدادوں میں مبینہ بدانتظامی کی تحقیقات کا مطالبہ

 اوقاف کی جائیدادوں میں مبینہ بدانتظامی کی تحقیقات کا مطالبہ

اوقاف کی جائیدادوں میں مبینہ بدانتظامی کی تحقیقات کا مطالبہ قیمتی املاک، دکانیں اور زرعی اراضی مبینہ طور پر ملی بھگت سے انتہائی کم کرایوں پر دی گئی

بھیرہ(نامہ نگار)شہریوں نے محکمہ اوقاف کی زیرِ تحویل جائیدادوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مالی بدانتظامی کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ کی قیمتی املاک، دکانیں اور زرعی اراضی مبینہ طور پر ملی بھگت سے انتہائی کم کرایوں پر دی گئی ہیں، جبکہ کرایہ دار یہی جائیدادیں آگے بھاری پگڑی وصول کرکے اور کئی گنا زیادہ ماہانہ کرایہ پر دے کر لاکھوں روپے کما رہے ہیں، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے ۔محمد بخش، الطاف احمد، غلام مرتضیٰ، غلام عباس اور محمد انور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اوقاف کی دکانوں، پراپرٹی اور زرعی اراضی کا کرایہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق مقرر نہیں کیا گیا، جس کے باعث سرکاری آمدنی میں خاطر خواہ کمی آ رہی ہے ، جبکہ چند افراد اس صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ درباروں اور مزارات پر نصب چندہ بکسوں میں زائرین کی جانب سے لاکھوں روپے کے نذرانے اور عطیات جمع ہوتے ہیں، مگر ان کی وصولی، حساب کتاب اور اخراجات میں مطلوبہ شفافیت نظر نہیں آتی، جس کے باعث عوام میں مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...