ہارڈ شپ تبادلوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر محکمہ تعلیم پر تنقید

 ہارڈ شپ تبادلوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر محکمہ تعلیم پر تنقید

ہارڈ شپ تبادلوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر محکمہ تعلیم پر تنقید مبینہ غلط تبادلوں کی اعلیٰ سطحی انکوائری اور اوپن میرٹ پر تبادلوں کا مطالبہ

 موچھ (نمائندہ دنیا) محکمہ تعلیم پنجاب کی جانب سے ہارڈ شپ تبادلوں میں میرٹ اور حقدار اساتذہ کے حقوق نظرانداز کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ تعلیمی و سماجی حلقوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس طرزِ عمل سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔سماجی شخصیات کے مطابق بالخصوص خواتین اساتذہ کو دور دراز علاقوں سے ہارڈ شپ کی بنیاد پر قریبی سکولوں میں منتقل کرنے کے بجائے چند کلومیٹر کے فاصلے پر نام نہاد میڈیکل اور ویڈ لاک کی بنیاد پر مخصوص افراد کے تبادلوں کی اطلاعات محکمہ تعلیم اور پالیسی سازوں کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتی اقدامات کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ پچاس سے ستر کلومیٹر یا اس سے زائد دوطرفہ مسافت پر تعینات اساتذہ، بالخصوص خواتین اساتذہ، کو چالیس کلومیٹر دوطرفہ فاصلے کی بنیاد پر سابقہ پنجاب حکومت کی طرز پر قریبی سکولوں میں تبادلوں کی سہولت فراہم کی جائے ۔

 

 مبینہ طور پر غیرمنصفانہ تبادلوں کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے اور سابق سیکرٹری تعلیم سے بھی اس معاملے پر جواب طلب کیا جائے ۔ انہوں نے ذمہ داران کے خلاف سخت احتسابی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ضلع بھر کی تعلیمی و سماجی شخصیات امیر عبداللہ خان، سید دوست علی، ہدایت اللہ خان، ملک رفیع اللہ، حفیظ اللہ خان، احسان اللہ خان، شیر زمان خان، محمد ساحل خان، محمد عاقب نیازی، محمد عمیر حیات خان سمیت دیگر نے وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے اپیل کی ہے کہ محکمہ تعلیم پنجاب کی ہارڈ شپ تبادلہ پالیسی کو فوری طور پر اساتذہ دوست بنایا جائے ، جبکہ ویڈ لاک اور میڈیکل کی بنیاد پر تبادلوں کے نظام میں شفافیت یقینی بنا کر حقدار اساتذہ کو اوپن میرٹ پر تبادلوں کی سہولت فراہم کی جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...