ڈان لیکس :آج کو ئی درمیانی حل نکالا جاسکتا ہے

ڈان لیکس :آج کو ئی درمیانی حل نکالا جاسکتا ہے

امکان ہے وزیر اعظم آج قانونی ماہرین سے ڈان لیکس پر مشاورت کریں گے حکومتی نوٹیفکیشن سے معاملات بہتر یاایک نئی صورتحال بھی جنم لے سکتی ہے

لاہور (سلمان غنی سے )ڈان لیکس رپورٹ کی بنیاد پر ہونے والے اقدامات اوران اقدامات پر آئی ایس پی آر کے ٹویٹ سے پیدا ہونے والی صورتحال کیا رخ اختیارکرے گی، اس حوالے سے آج منگل کا دن اہم قرار دیا جا رہا ہے ، امکان ہے کہ اس کا کوئی درمیانی حل نکالا جائے گا تاکہ اس صورتحال کا خاتمہ ہو سکے جو ہفتہ کے روز پیدا ہوئی۔اس حوالے سے یہ تاثر بناکہ جیسے حکومت اور بعض اداروں کے درمیان تناؤ ہے ، حکومتی ذرائع مصر ہیں کہ حکومت خود کو آئین و قانون کی پابند سمجھتی ہے اور اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرتی ہے اور اقدامات کرتی ہے لہٰذا حکومت سمجھتی ہے کہ تمام آئینی ادارے بھی خود کو آئین وقانون کے تابع رکھ کر کام کریں گے اور دائرہ کار سے باہر نہیں آئیں گے لہٰذا اگر کہیں کسی کے کسی مسئلہ پر تحفظات ہیں تو حکومت تحفظات دور کرنے کی پابند ہے لیکن حکومتی اقدامات اور احکامات کو چیلنج کرنا درست نہیں۔ دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ ڈان لیکس کی تحقیقات اور اس حوالہ سے رپورٹ پر سکیورٹی اداروں کے تحفظات ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے اپنے طور پر تحقیقات شروع کر رکھی ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ خبرجس نے بنائی اور چھپوائی اس کا کھوج لگانا ضروری ہے تا کہ مستقبل میں ایسی کوئی صورتحال نہ ہو، مذکورہ صورتحال کی روشنی میں وزارت داخلہ کے اس نوٹیفکیشن کو اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے جس کا ذکر خود ہفتہ کو وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کراچی میں اپنی پریس کانفرنس میں کیا تھا اور کہا تھا کہ رپورٹ کی بناء پر نوٹیفکیشن وزارت داخلہ جاری کرے گی ۔لہٰذا اس نوٹیفکیشن کے ذریعہ واضح ہو گا کہ حکومت کہاں کھڑی ہے اور یہی نوٹیفکیشن صورتحال میں بہتری کا باعث بھی بن سکتا ہے اور یہی نوٹیفکیشن ایک اورنئی صورتحال کو بھی جنم دے سکتا ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور امکان ہے کہ وہ آج مذکورہ صورتحال پر اپنے قانونی ماہرین سے بھی مشاورت کریں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں