مریم نواز رورل ہسپتالوں میں سنگین انتظامی وطبی خامیاں
ادویات کی شدید قلت ،عملہ ڈیوٹی سے غائب ،صفائی اوربنیادی سہولتوں کا فقدان واش رومز کی حالت انتہائی ناقص ،کئی عمارتوں کو فوری مرمت وبحالی کی ضرورت کئی جگہ پانی اور سیوریج کے مسائل ،بائیومیڈیکل آلات کی کمی علاج میں رکاوٹ سپیشل مانیٹرنگ ٹیم نے آڈٹ رپورٹ تیارکرلی ،فوری اصلاحی کارروائی کی سفارش
لاہور(محمد حسن رضا سے )وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے حکم پر مریم نواز رورل ہسپتالز کا خصوصی آڈٹ کیاگیا جس میں سنگین انتظامی و طبی خامیاں سامنے آگئیں،متعدد ہسپتالز میں ادویات کی شدید قلت ہے ۔سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کی تیار کردہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق متعدد اضلاع میں ہسپتالوں کی حالت تسلی بخش نہیں، ادویات کی شدید قلت ہے ، عملے کی حاضری پر سوالات ہیں جبکہ صفائی اور بنیادی سہولیات کے فقدان نے مریضوں کے علاج کو متاثر کیا ۔ ساہیوال کے علاقے ہڑپہ میں قائم مریم نواز رورل ہسپتال میں اہم انجکشنز اور اینٹی بائیوٹکس کو آؤٹ آف سٹاک قرار دیا گیا جبکہ وہاں واش رومز کی حالت انتہائی ناقص ہے اور عمارت کو فوری مرمت وبحالی کی ضرورت ہے ،یہاں نان جیسٹیشنل الٹراساؤنڈ کی سہولت بھی دستیاب نہیں ۔لاہور کینٹ کے علاقے آوان ڈھائی والا ہسپتال میں آنکھوں کے ضروری قطرے اور آئی وی فلوئیڈ دستیاب نہیں جبکہ ایک اینستھیٹسٹ ڈاکٹر ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا گیا۔
فیلڈ ٹیموں نے 16 دسمبر سے روزانہ کی بنیاد پر مختلف اضلاع کے ہسپتالوں کے اچانک دورے کئے ، کئی مریم نواز رورل ہسپتالز میں صحت منیجر آپریشنل ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہیں ، مختلف اضلاع میں پانی اور سیوریج کے مسائل موجود ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کئی ہسپتالوں میں تمام ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی مکمل حاضری یقینی نہیں بنا رہا، جبکہ ادویات اور بائیومیڈیکل آلات کی کمی مریضوں کے علاج میں براہ راست رکاوٹ بن رہی ہے ۔ صفائی اور ہائجین کے ناقص انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ایک اور سنگین پہلو یہ سامنے آیا کہ بعض مریم نواز رورل ہسپتالز میں ای ایم آر کے ذریعے ڈیٹا انٹری مشکوک پائی گئی اور فیک انٹریز کی نشاندہی ہوئی۔ کئی ہسپتالوں میں مریضوں کے اطمینان کا مقررہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا جبکہ متعدد مراکز میں ماہانہ مانیٹرنگ وزٹس بھی باقاعدگی سے نہیں ہو رہے ۔
جنوبی پنجاب کے اضلاع، خصوصاً بہاولپور، رحیم یار خان اور مظفرگڑھ میں قائم مریم نواز رورل ہسپتالز میں سہولیات اور عملے کی کمی بار بار رپورٹ ہوئی ہے اوراکثر جگہ انتظامی غفلت پائی گئی۔سپیشل مانیٹرنگ یونٹ نے نشاندہی شدہ خامیوں کے بعد فوری اصلاحی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ۔رپورٹ کی نقول وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر، زاہد زمان، متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ صحت کو ارسال کر دی گئی ہیں اورہدایت کی گئی ہے کہ فوری اصلاحی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ رپورٹ میں فوٹو اور ویڈیو شواہد بھی شامل کئے گئے ہیں تاکہ زمینی حقائق کو واضح طور پر پیش کیا جا سکے ۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر آڈٹ رپورٹ میں بتائی خامیوں کو فوری طور پر دور نہ کیا گیا تو دیہی آبادی کیلئے صحت کی سہولیات کا خواب محض کاغذی وعدہ ہی ثابت ہوگا۔