جوڈیشل کمیشن : اسلام آباد، بلوچستان ہائیکورٹس کے 4 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنیکی منظوری

جوڈیشل کمیشن : اسلام آباد، بلوچستان ہائیکورٹس کے 4 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنیکی منظوری

جسٹس اعظم ، جسٹس آصف ،جسٹس انعام کی کثرت رائے ،جسٹس نجم الدین مینگل کی متفقہ طورپر مستقلی کی سفارش جسٹس ایوب کی مستقلی کا معاملہ کثرت رائے سے مسترد،کمیٹی سے ججز کی تعیناتی اورنامزدگی کے رولز پر سفارشات طلب

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک) جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 ایڈیشنل ججز جبکہ بلوچستان ہائیکورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کو مستقل کرنے کی منظوری دیدی۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس کی صدارت چیف جسٹس یحیی آفریدی نے بطور چیئرمین کی۔ اجلاس میں اہم ادارہ جاتی اور پالیسی امور پر غور کیا گیا جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججز کی مستقلی سے متعلق سفارشات بھی کی گئیں۔ کمیشن نے ہائی کورٹس کے آئینی بینچز میں ججز کی نامزدگی کے معیار، عدالتی تقرریوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز کے طریقہ کار اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (ججز کی تقرری) رولز 2024 میں وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان میں تقرریوں سے متعلق مجوزہ ترامیم پر غور کیا۔

تفصیلی مشاورت کے بعد کمیشن نے متعلقہ کمیٹی کو اختیار دیا کہ وہ ان امور کا باریک بینی سے جائزہ لے اور انٹرویوز کے طریقہ کار اور قواعد میں ترامیم سے متعلق سفارشات مرتب کر کے کمیشن کے سامنے پیش کرے تاکہ آئینی فریم ورک پر موثر اور شفاف انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے ۔اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ایڈیشنل ججز جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس کی مستقل تقرری کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی۔جبکہ بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس نجم الدین مینگل کی بطور مستقل جج کی متفقہ توثیق کی گئی، جسٹس ایوب خان کی مستقلی کثرت رائے سے مسترد کی گئی۔ذرائع کے مطابق جسٹس منیب اختر نے جسٹس محمد آصف کی مستقلی کی مخالفت کی۔اجلاس میں جسٹس آصف کے بیٹے کی گاڑی کے حادثے کا تذکرہ بھی ہوا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر نے واقعہ سے متعلق کمیشن ممبران کو بریف کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں