اچکزئی، گوہر کیساتھ طے ہوا وہ سخت باتیں نہیں کرینگے
تلوار لٹکتی رہے گی ،اگر ریاست پر حملہ کیا گیا تو فیصلہ کہیں اور سے دلوا دیا جائے گا سخت باتوں سے باز نہ آنے پر خان سے ملاقاتیں بند،آج کی بات سیٹھی کیساتھ
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا نیوز کے پروگرام ‘‘آج کی بات سیٹھی کے ساتھ’’میں سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈربنانے میں حکومت کی طرف سے پہل ہوئی،5 ماہ سے یہ سیٹ خالی تھی، تحریک انصاف کی طرف سے حکومت پر بڑا پریشر تھا، سیاستدانوں کا ہمیشہ سے یہی موقف ہوتا ہے اگر کوئی کہے ہم نے آپ سے بات کرنی ہے توسیاستدان کبھی یہ نہیں کہتے کہ ہم بات نہیں کرتے ،حکومت نے یہی سوچا کہ اگر تحریک انصاف آگے بڑھنے کیلئے بات کرنا چاہ رہی ہے اگر ہم نے بات نہ کی تو عوام ہمیں ملامت کریں گے ،سیاستدان کبھی بھی دروازے بند نہیں کرتے ،مگر اسٹیبلشمنٹ بات نہیں مان رہی تھی۔
اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کو عمران خان کا جیل میں رویہ بتا یا کہ وہ جیل میں بیٹھ کرباتیں کررہے ہیں،یہ لوگ عمران خان کو ملنے جاتے ہیں تو باہر آکر سخت باتیں کرتے ہیں، اس وجہ سے ہم ان کو ملنے نہیں دے رہے ، جیل انتظامیہ نے عمران خان کو سمجھایا بھی ہے کہ آپ ایسی باتیں نہ کریں ،مگر خان صاحب باز نہیں آتے ،اس وجہ سے علیمہ خان کو ملنے کی اجازت نہیں مل رہی،جب خان صاحب سے دوسری بہن ملنے گئی توان کو کہا گیا تھا کہ باہر آکرکوئی بات نہیں کرنی،اگر عمران خان کی بات باہر آکر کہی تو ہم ملاقاتیں بند کردیں گے ،یہی وجہ ہے ان کی ملاقاتیں اب بند کردی گئی ہیں،انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا سے بزنس مین اور ڈاکٹرز آئے انہوں نے کہاہمیں ملاقات کی اجازت دیں عمران خان کو سمجھالیں گے۔
اسٹیبلشمنٹ نے ان کی ملاقات کرادی تھی،لیکن ڈھائی گھنٹوں کی ملاقات میں عمران خان کچھ نہیں مانے ، اب وہ امریکا میں موجودہ حکومت کی مدد کر رہے ہیں،حکومت کے بار بار اصرار سے اسٹیبلشمنٹ نے محمود اچکزئی کی اجازت دے دی،پھر حکومت نے اپوزیشن لیڈر بنادیا،محمود اچکزئی اور بیرسٹر گوہر کے ساتھ طے یہ ہوا کہ آپ آئندہ سخت باتیں نہ کرنا، تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے ،محمود اچکزئی بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانات دیتے رہتے ہیں، اسی وجہ سے محمود اچکزئی کیلئے اسٹیبلشمنٹ نہیں مان رہی تھی،اب بگ باس نے اشارہ کیا ہے تو حکومت دفاعی پوزیشن پر آگئی ہے ،اچکزئی کے پیچھے ایک تلوار رکھیں گے ،اگر ریاست پر حملہ کیا تو فیصلہ کہیں اور سے دلوا دیا جائے گا، جب تک ریاست مخالف بیانات نہیں دیں گے تو یہ تلوار رہے گی،تو فیصلہ نہیں آئے گا۔