نقشے میں ہنگامی اخراج غائب، آگ بجھانے کا بھی انتظام نہیں
شادی کی خریداری کیلئے آئے خاندان کے 5افرادلاپتا، عامر کا عیدکے بعد نکاح تھا تنگ راہداریوں میں بھگدڑ، باہر نکلنے کا راستہ نہ ملا،کئی مقامات سے اعضا برآمد وقت گزرتے ہی امید ٹوٹنے لگی،شدید حرارت سے متعدد لاشیں ناقابل شناخت جس طرح ریسکیو کا عمل چل رہا سالم لاش بھی سلامت نہیں رہے گی:عینی شاہدین
کراچی(دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)گل پلازہ کا کمپلیکس پلان اور تعمیراتی تفصیلات دنیا نیوز نے حاصل کرلیں، جس کے مطابق گل پلازہ کے نقشہ میں ہنگامی اخراج ہی غائب تھا جبکہ عمارت میں آگ سے نمٹنے کیلئے انتظامات بھی نہیں تھے ، تنگ داخلی وخارجی راستوں کے باعث فائر فائٹنگ میں تکنیکی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ آگ کی شدید حرارت اور طویل دورانیے کے اثرات کے باعث متعدد لاشیں ناقابلِ شناخت حالت میں تبدیل ہو چکی ہیں، جبکہ مختلف مقامات سے انسانی جسم کے اعضا بھی برآمد ہو رہے ہیں۔شہری محمد امین نے بتایا کہ ان کا بڑا بھائی جس کی عمر 42 سال ہے ، ان کی دو بیٹیاں ہیں جو ہفتے کی رات سے رو رہی ہیں۔ بھتیجیاں کہتی ہیں کہ ابا اس وقت گھر آتے ہیں، ابھی کیوں نہیں آرہے ؟ ہم ان کو کیا کہیں؟ ہم انہیں کیسے بتائیں کہ ان کے بابا اب چلے گئے ہیں۔
میں گھر کیسے جا سکتا ہوں؟ میں اپنی ماں کو کیا جواب دوں؟ میں بچوں کو کیا جواب دوں؟ میں ان سے کیا کہوں؟ ہم یہاں بے بسی سے بیٹھے ہیں۔ ہمیں اب بھی ہسپتال سے فون آتے ہیں، ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے کہا جاتا ہے ۔ کبھی ہم سول ہسپتال جاتے ہیں، کبھی وہاں جا رہے ہیں، کبھی ہم یہاں جا رہے ہیں۔جائے وقوعہ پر جے ڈی سی کے ظفر اقبال ودیگر کی حکومت پر شدید تنقید کے بعد پیر کو لواحقین صبر اور حوصلہ کھو بیٹھے اور ایک خاتون نے کہا کہ ان سے (ریسکیو) کچھ نہیں ہو گا۔ اس کے بعد لوگوں نے زبردستی عمارت میں اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن رینجرز اور دیگر اہلکاروں نے انہیں کنٹرول کیا۔ریسکیو آپریشن پر نظریں گاڑے بیٹھے شہری قیصر نے بتایا کہ ان کی بیوی، ایک بہو اور ایک بہن اندر کہیں موجود ہیں،انہوں نے کہا تھا کہ وہ بازار جا رہی ہیں، آخری بار ان سے رات کو آٹھ بجے رابطہ ہوا تھا، جب آگ لگنے کا پتا چلا تو ان کے بچے یہاں آئے لیکن کچھ معلوم نہیں ہو رہا،انتظامیہ کبھی برن سنٹر بھیجتی ہے تو کبھی سول ہسپتال کے مردہ خانے میں،جس طرح سے یہاں پر ریسکیو عمل چل رہا ہے اگر کوئی سالم لاش بھی ہو گی تو وہ بھی سلامت نہیں ملے گی،انہوں نے حکام سے گزارش کی کہ وہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کریں جس سے کم از کم لاشوں کے ٹکڑے تو نہ ہوں۔
آگ لگنے کے بعد گیٹ نمبر 9 توڑ کر باہرنکلنے والے دکاندار ریحان فیصل نے بتایا کہ آگ لگنے کے پانچ، سات منٹ میں پورا علاقہ ویران ہو گیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے سب کچھ جل گیا۔ہمارے بہت سے دوست، جاننے والے اور گاہک میزنائن فلور پر تھے ، کچھ دوست اور رشتہ دار ابھی تک اندر موجود ہیں، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں کافی تاخیرسے پہنچیں، جبکہ ایمبولینس جن کی اس وقت ضرورت بھی نہیں تھیں پہنچ چکی تھیں۔متاثرہ مارکیٹ کے باہر ایک خاتون بچوں سمیت موجود تھی، جس کا کہنا تھا کہ ان کی پھوپھی کے خاندان کے پانچ لوگ ہیں جو شادی کی خریداری کے لیے آئے تھے اور وہ لاپتا ہیں۔19 سالہ شعیب سنیچر کی رات سے کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ کے باہر اس امید پر موجود ہیں کہ ان کے چچا زاد بھائی فیضان اور اُن کے علاقے (نیو گولی مار) سے تعلق رکھنے والے اُن کے لاپتا دوست احباب کی کوئی خبر انہیں مل جائے ۔شعیب خود بھی گُل پلازہ کی دوسری منزل پر واقع ڈیکوریشن کی ایک دکان پر کام کرتے تھے ، تاہم خوش قسمتی سے وہ اس المناک حادثے کے دوران اس عمارت سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے تھے ۔
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ لاپتا افراد کے لواحقین کی اُمیدیں بھی دم توڑ رہی ہیں۔شعیب نے کہا ابھی میں دکان بند ہی کر رہا تھا کہ اچانک دھواں زیادہ ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دھواں اتنا بڑھا کہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اور اس دوران بھگڈر بھی شدید تر ہو چکی تھی۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، بس سب لوگ اِدھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے ۔ مجھے پلازے سے باہر نکلنے کے کچھ راستے پتا تھے ۔ میں ایک راستے کی طرف نکلا تو وہ بند تھا جبکہ دوسرے راستے پر کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اور وہاں لوگ بہت زیادہ تھے ،میں واپس پلٹا تو پتا نہیں کیسے مجھے شیشہ لگا، اس وقت دھواں اتنا زیادہ ہوا کہ میں گر کر اپنے حواس کھو بیٹھا۔ پھر مجھے نہیں پتا کہ کون وہاں سے مجھے اٹھا کر لایا۔ باہر آ کر تھوڑی دیر بعد میرے حواس بحال ہوئے ،میں روزانہ صبح گولی مار سے اپنے چچا زاد بھائی اور دیگر دوستوں کے ہمراہ کام پر آتا اور واپس جاتا تھا۔ اب اُن کے بغیر گھر واپس جانے کا دل نہیں کر رہا ہے ۔ہارون نامی شہری نے بتایا کہ جب آگ لگی تو اُس وقت پلازے کے اندر ان کے تین بھائی موجود تھے ، جن میں سے دو تو باہر نکل آئے مگر تیسرے بھائی اب بھی لاپتا ہیں اور ابھی تک ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں مل سکی۔پلازے کے اندر سے ان کے بھائی نے اپنی دکان سے والدین کو فون کیا کہ مجھے بچا لو، انہوں نے اپنے دوستوں کو بھی فون کر کے بچانے کی اپیل کی مگر کوئی انہیں بچا نہ سکا۔
محمد حسین نے بتایا کہ اُن کے بھتیجے کا فون صبح گیارہ بجے سے بند ہے ،اگر امدادی کام وقت پر شروع ہو جاتا تو شاید اتنا نقصان نہ ہوتا اور قیمتی جانوں کو بھی بچایا جا سکتا تھا۔گزشتہ کچھ عرصے میں یہ تیسری بار ہے کہ کراچی صدر کے علاقے میں کسی عمارت کو آگ لگی ہے ۔ کب تک یہ سب ایسے ہوتا رہے گا اور کب تک ایسے لاشیں اٹھتی رہیں گی؟’عبداللطیف اور ان کے چند قریبی رشتہ دار گُل پلازہ میں دکانوں کے مالک ہیں۔ عبداللطیف کے دو بھانجے اور سگے بھائی نعمت اور عبداللہ، جو ایک ہی دکان کرتے تھے ، لاپتا ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب وہ اپنے دونوں بھائیوں اور دو بھانجوں کے حوالے سے مثبت خبر آنے کی توقع اور دعا کر رہے ہیں۔زین نامی دکاندارنے کہا ریسکیو اہلکاروں نے اندر جانے کے بجائے باہر سے آگ بجھانے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے اندر موجود افراد کو بچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔گُل پلازہ میں آتشزدگی کے باعث ہلاک ہونے والوں میں 20 سالہ عامر بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ عید الفطر کے بعد اُن کی شادی تھی، لاش دیکھ کر خوشیوں والا گھر غم میں بدل گیا۔گل پلازہ 1990 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا۔
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ گُل پلازہ میں اصل میں1017 دکانوں کی منظوری دی گئی تھی جبکہ نقشے کے برخلاف 1200 تعمیر کی گئیں،انکوائری کے دوران یہ بھی جانچا جائے گا کہ وہاں آگ بجھانے کے مناسب انتظامات موجود تھے یا نہیں۔گل پلازہ کی اضافی تعمیر کے لیے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے اجازت نامہ 1998 میں جاری کیا گیا تھا۔اس کے مطابق جینوا سنٹر عرف گل پلازہ کو پریڈی کوارٹرز کے پلاٹ پر تعمیر کی اجازت دی گئی ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ تھرڈ فلور کو پارکنگ میں تبدیل کیا جارہا ہے جبکہ پارکنگ چوتھے فلور پر منتقل کرنے کی اجازت دی جارہی ہے ۔تعمیر کے اس نقشے کے مطابق بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور، میزنائن، فرسٹ فلور، سیکنڈ فلور اور اس کے بعد پارکنگ کے لیے چھت شامل ہے ۔اس اجازت نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سٹرکچرل انجینئر عمارت کی مکمل سیفٹی کے ذمہ دار ہوں گے ۔واضح رہے کہ پورے نقشے میں ہنگامی اخراج یا فائر ایگزٹ کا کوئی ذکر فکر نظر نہیں آتا۔