اسلام آباد میں درختوں کی جگہ ڈنڈیاں لگائی جاتیں : قائمہ کمیٹی کو بریفنگ، ریکارڈ طلب

اسلام آباد میں درختوں کی جگہ ڈنڈیاں لگائی جاتیں : قائمہ کمیٹی کو بریفنگ، ریکارڈ طلب

درخت کاٹنے کا درست طریقہ کار اختیار نہیں کیا،پورا جنگل کاٹ دیا :سماجی کارکن، کونسے درخت لگائیں ؟چیئرمین سی ڈی اے اسلام آباد کو بچانے کیلئے کمیٹی مکمل سپورٹ کرے گی:شیری رحمن،تمام اقدامات پالیسی کے تحت کئے گئے :طلال چودھری

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) اسلام آباد میں سی ڈی اے کی جانب سے درختوں کی کٹائی کے معاملے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ، جس پر کمیٹی نے اسلام آباد کے درختوں اور پارکس کا ریکارڈ طلب کرلیا ،سماجی کارکن نے کمیٹی کو بر یفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سی ڈی اے نے درخت کاٹنے کا درست طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔ ان کے مطابق پیپر ملبری سمیت دیگر درختوں کی کٹائی کا باقاعدہ طریقہ ہوتا ہے ، جس کے تحت پہلے درختوں کی گروپنگ پھر نشاندہی کے بعد درخت کاٹے جاتے ہیں ۔ درختوں کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جاتا تاکہ زمین محفوظ رہے ، تاہم سی ڈی اے نے پورا جنگل کاٹ دیا ۔

سماجی کارکن کے مطابق دوبارہ درخت لگانے کے بجائے ڈنڈیاں لگائی جاتی ہیں ،چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ہم بڑے درخت لگا ر ہے ہیں ہمیں بتایا جائے کہ کونسے درخت لگائیں ۔ درختوں اور پارکس کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا ۔ سماجی کارکن نے کہا کہ اسلام آباد میں اچھے درختوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔ اس موقع پر شیری رحمن نے کہا کہ اسلام آباد کو بچانے کے لیے کمیٹی مکمل سپورٹ کرے گی، انہوں نے آئندہ اجلاس میں اسلام آباد کے تمام پارکوں کی فہرست بھی پیش کرنے کی ہدایت کردی ، چیئرمین سی ڈی اے نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایف نائن پارک میں کوئی نیا کرکٹ گراؤنڈ نہیں بنایا جا رہا، کرکٹ گراؤنڈ پہلے سے موجود ہے اور اس پر مزید تعمیر نہیں ہو رہی ۔

سی ڈی اے کی پالیسی کے مطابق اگر ایک درخت نکالا جاتا ہے تو اس کے بدلے تین درخت لگائے جاتے ہیں۔ چیئرمین سی ڈی اے نے مذکورہ جگہ کا دورہ کر انے کی پیشکش بھی کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایف ایٹ انٹرچینج کی تعمیر کے دوران درخت کاٹے گئے تو اس کے بدلے 4ہزار سے زائد درخت لگائے گئے ، جبکہ شاہین چوک پر 7 ہزار سے زائد درخت لگائے گئے ۔بحریہ یونیورسٹی کے اطراف بھی شجرکاری کی گئی ۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ میگا پراجیکٹس پر تنقید کی جاتی ہے کہ شہر کو کنکریٹ کا جنگل بنایا جا رہا ہے ، تاہم حکومت گرین ایریا کو براؤن ایریا میں تبدیل نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات پالیسی کے تحت کئے گئے ۔ وزیر مملکت کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں اسلام آباد کا گرین ایریا بڑھا ہے اور درختوں کو بچانے کے لئے منصوبوں کے ڈیزائن میں تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں