کوٹ مٹھن میں ریزورٹ بھوت بنگلے بن گئے ، پنجاب اسمبلی میں بحث

 کوٹ مٹھن میں ریزورٹ  بھوت بنگلے بن گئے ، پنجاب اسمبلی میں بحث

محکمہ سیاحت نے کاغذات جمع کرا دیے ، ایک سوال کا درست جواب نہیں دیا ، سپیکر بھاٹی گیٹ واقعہ مالی امداد دے کر دبایا نہ جائے ، کارروائی کی جائے ،تحریک انصاف

لاہور (سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ چھتیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کی صدارت چیئرپرسن راجہ شوکت بھٹی نے کی۔اجلاس کے دوران محکمہ سیاحت کی کارکردگی پر شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ حکومتی رکن اسمبلی امجد علی جاوید نے سوال اٹھایا کہ کسی عمارت کو تاریخی قرار دینے کا طریقہ کار کیا ہے ، اور کہا کہ اگر محکمہ کو طریقہ کار کا ہی علم نہیں تو وہ کر کیا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی اور ڈیپارٹمنٹ نے پورے معاملے کا مذاق بنا رکھا ہے ۔امجد علی جاوید نے ماڑی کو تفریحی مقام قرار دینے سے متعلق پیش کی گئی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف محکمہ کہتا ہے کہ پیسے نہیں رکھے گئے جبکہ دوسری جانب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فنڈز مختص کر دیے گئے ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت پنجاب نے اس منصوبے کے لیے فنڈز رکھ کر معاملہ حل کر دیا ۔ اس موقع پر بلال یامین نے بتایا کہ محکمہ نے ضلع مری کے لیے 23 سے 24 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان افراد کی فہرست دی جائے جو گزشتہ بیس بیس سال سے جائیدادوں پر قابض ہیں۔

بلال یامین نے کہا کہ مری میں لیز پر دی گئی جائیدادوں سے صرف 51 کروڑ روپے آمدن ظاہر کی جا رہی ہے ، حالانکہ اربوں روپے کمائے جا سکتے ہیں۔ چیئرپرسن نے اس معاملے کو سٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجنے کی ہدایت دی۔سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ایوان کو گمراہ کیا جا رہا ہے ۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے رپورٹ کو مس لیڈنگ قرار دیتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کوٹ مٹھن میں کوئی ریزورٹ موجود نہیں، وہاں تو بھوت بنگلے  بنے ہوئے ہیں۔سپیکر نے کہا کہ محکمہ نے صرف کاغذات جمع کرا دیے ہیں، کسی ایک بھی سوال کا درست جواب نہیں دیا گیا، جس پر تمام سوالات پینڈنگ کر دیے گئے ۔صوبائی اسمبلی پنجاب کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور کے چیئرمین اور ایم پی اے فیلبوس کرسٹوفر نے پنجاب اسمبلی میں قرارداد میں ملک کی تمام اقلیتی برادریوں کو جداگانہ یا دہرے ووٹ کا حق دینے کی تجویز دی ہے تاکہ ان کی جمہوری آواز کو مضبوط بنایا جا سکے اور قومی فیصلہ سازی میں ان کے موثر کردار کو یقینی بنایا جا سکے ۔بعد ازاں پنجاب اسمبلی کا اجلاس پیر کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں