آپریشن غضب للحق:طالبان رجیم ہلاکتیں 415،متعدد پوسٹیں ٹینک ،گاڑیاں تباہ
580 سے زائد طالبان رجیم اہلکار زخمی ، افغان رجیم کو ہر محاذ پر پاک فوج کے ہاتھوں پسپائی کا سامنا ہے :عطا تارڑ پاک فوج نے افغان طالبان کی پوسٹ کو اڑادیا، کارروائیاں روکنے کی اطلاعات حقیقت کے برعکس:طارق فضل
اسلام آباد(نامہ نگار،خصوصی نیوز رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)پاک فوج کا افغان طالبان رجیم کی بلا اشتعال جارحیت کیخلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے ،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ یکم مارچ کو شام 4 بجے تک افغان طالبان کے 415 کارندے ہلاک اور 580 سے زائد زخمی ہو چکے ، اس دوران افغان طالبان کی 182 پوسٹیں، 185 ٹینک اور مسلح گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں۔ادھر سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم کیخلاف پا کستان کا بھرپورردعمل جاری ہے اور افغان طالبان رجیم کو ہر محاذ پر پاک فوج کے ہاتھوں مسلسل پسپائی کا سامنا ہے ،گزشتہ رو زپاک فوج نے سرحدی علاقہ میں افغان طالبان کی پوسٹ کو دھماکا خیز موادسے اڑادیا۔ علاوہ ازیں 28 فروری 2026 ئکو دن کی روشنی میں بہادر پاکستانی جوانوں کی افغانستان میں داخل ہو کر افغان طالبان کی مرکزی پوسٹ پر کنٹرول کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے ۔سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستانی فوجی جوانوں نے شمالی وزیرستان سے ملحقہ سرحدی باڑ عبور کی اور تیزی سے افغان طالبان کی مرکزی پوسٹ کی جانب پیش قدمی کی، پاکستانی فورسز کو دیکھتے ہی افغان طالبان فرار ہو گئے اور پاک فوج نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی مرکز ی پوسٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا۔
، کمپاؤنڈز کلیئر کر کے دشمن کے جھنڈے اتار دئیے ۔ سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ آپریشن غضب للحق اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔ادھر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اﷲتارڑ نے اتوار کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں مزید بتایا کہ آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان کی 31 چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا، افغانستان کے اندر 46 مقامات پر موثر طور پر کامیاب فضائی کارروائیاں کی گئیں،جنگ میں افغانستان کا بھاری جانی ومالی نقصان ہوا، پاکستان نے افغانستان کی 26 پوسٹوں پر مکمل کنٹرول حاصل کیا ہوا ہے ۔ دریں اثناء وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی اور من گھڑت خبر پھیلائی جا رہی ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے خلاف اپنی کارروائیاں روک دیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی پوسٹ میں وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر صرف عارضی طور پر پی اے ایف اور ڈرون کی فوٹیجز میڈیا کے ساتھ شیئر کرنے سے روکی گئی ہیں ، اس فیصلے کا مقصد قومی سلامتی اور آپریشنل حکمتِ عملی کو محفوظ رکھنا ہے نہ کہ کارروائیوں کو روکنا،کارروائیاں بدستور جاری ہیں ۔