پاکستانی قیادت کادورہ سعودیہ غیر معمولی اہمیت کاحامل
خطے میں نئی صف بندی کا امکان، دفاع، معیشت اور سکیورٹی ایجنڈے میں شامل
(تجزیہ:سلمان غنی)
امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے فوری بعد پاکستان کی اعلیٰ قیادت، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورۂ سعودی عرب اور ولی عہد محمد بن سلمان سے متوقع ملاقات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے ۔ اس ملاقات کو نہ صرف مذاکرات کے تسلسل بلکہ خطے پر اس کے ممکنہ اثرات اور پاک سعودیہ تعلقات کے تناظر میں بھی کلیدی حیثیت دی جا رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق پاکستانی قیادت سعودی ولی عہد کو اسلام آباد مذاکرات کی تفصیلات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر اعتماد میں لے گی۔ پاکستان سعودی عرب کا قریبی اتحادی ہونے کے باعث اپنی سفارتی کاوشوں میں اسے شریک رکھنا ضروری سمجھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملاقات میں خلیجی ممالک کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی کی تشکیل بھی زیر غور آئے گی۔
امریکا، ایران تنازع میں پاکستان کی بیک ڈور ڈپلومیسی میں چین اور سعودی عرب کا کردار اہم رہا ہے ۔ پاکستان نے نہ صرف دونوں ممالک سے مسلسل رابطہ رکھا بلکہ خطے میں کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔ خاص طور پر سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں کی خبروں کے بعد پاکستان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے اپنے لیے بھی چیلنج قرار دیا اور اعلیٰ عسکری سطح پر اس کی مذمت کی گئی۔اب متوقع پاک سعودیہ ملاقات میں صرف سفارتی امور ہی نہیں بلکہ دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور علاقائی سکیورٹی جیسے معاملات بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے ۔ ماہرین کے مطابق یہ دورہ پاکستان کی معاشی صورتحال، سرمایہ کاری کے فروغ اور پٹرولیم سہولت کاری کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔
پاک سعودیہ تعلقات کی تاریخ پاکستان کے قیام جتنی پرانی ہے ۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، حتیٰ کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد عالمی پابندیوں کے باوجود سعودی قیادت نے پاکستان کی مدد جاری رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کو اپنی خارجہ پالیسی میں اولین ترجیح دیتا آیا ہے ۔موجودہ حالات میں جب پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور امن عمل کو یقینی بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے ، سعودی حمایت کو ناگزیر سمجھا جا رہا ہے ۔ سفارتی حلقوں کے مطابق یہ دورہ پاک سعودیہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا اور پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ کرے گا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے موجود ہیں، اس لیے ایسے حالات میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے ۔
سیاسی و عسکری قیادت کی مشترکہ موجودگی اس بات کا ثبوت ہوگی کہ پاکستان ایک مربوط اور طویل المدتی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے ۔جہاں تک امریکا اور ایران کے ردعمل کا تعلق ہے ، امریکا پاکستان کے کردار کو ایک محتاط ثالث کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے ، جبکہ ایران پاکستان سے غیرجانبداری برقرار رکھنے کی توقع رکھتا ہے ، تاہم ایران بھی پاکستان کے مثبت کردار کو سراہتا نظر آتا ہے ، اگرچہ وہ عسکری شمولیت پر تحفظات رکھ سکتا ہے ۔چین اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ مطمئن دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ مشرق وسطٰی میں پاکستان اور سعودی عرب کو اپنے اہم شراکت داروں کے طور پر دیکھتا ہے ۔ مجموعی طور پر یہ دورہ نہ صرف سفارتی ہم آہنگی بلکہ خطے میں طاقت کے توازن اور امن کے قیام کیلئے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے ۔