کسی کی ملکیت بغیر رضامندی حق مہر میں شامل نہیں کی جاسکتی : سپریم کورٹ

 کسی کی ملکیت بغیر رضامندی حق مہر میں شامل نہیں کی جاسکتی : سپریم کورٹ

پلاٹ شوہر نہیں سسر کا، گواہوں کی موجودگی اور کابین نامہ قانوناً ثابت نہیں:تحریری فیصلہ، مدعیہ کے حق میں ڈگری منسوخ EOBIکرپشن کیس میں ٹرائل کورٹ سے رپورٹ طلب، رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا:عدالت

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی تیسرے شخص کی ملکیت کو اس کی رضامندی کے بغیر حق مہر کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت عظمیٰ نے سسر کی ملکیت ایک کنال پلاٹ بہو کے حق مہر میں شامل کرنے سے متعلق مقدمے میں اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے مدعیہ کے حق میں دی گئی ڈگری منسوخ کر دی۔تحریری تفصیلی فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی نے جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ کیس کے ریکارڈ کے مطابق رنگ روڈ پشاور پر واقع ایک کنال کا پلاٹ درخواست گزار شیر عالم خان کی ملکیت تھا، مدعیہ کے شوہر کے نام پر نہیں تھا۔  نکاح کے بعد تیار کردہ کابین نامہ قانونی طور پر ثابت نہیں ہو سکا جبکہ گواہ بھی جرح کے دوران دستاویز کی تیاری اور دستخط کے وقت اپنی موجودگی ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے 22 مارچ 2024 کے فیصلے کے خلاف اپیل جزوی منظور کرتے ہوئے حق مہر میں شامل ایک کنال پلاٹ کی حد تک فیملی کورٹ، اپیلٹ کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے۔

ادھر جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کے دوران EOBI کرپشن کیس میں ٹرائل کورٹ سے اب تک کی کارروائی کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت تیز کرنے کی ہدایت کر دی۔جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کہ EOBI کو رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔ اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے کہ تیرہ سال گزرنے کے باوجود رقم دینے والے افراد پلاٹس حاصل نہ کر سکے ۔ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔دریں اثنا جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے خان پور سندھ میں دہشتگرد حملے میں ملوث ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی۔دوران سماعت ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو جس الزام کے تحت گرفتار کیا گیا اس کی زیادہ سے زیادہ سزا 14 سال قید بنتی ہے جبکہ مبینہ خودکش جیکٹ بھی عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ پراسیکیوشن یہ ثابت ہی نہیں کر سکی کہ ملزم خودکش حملہ کرنے آیا تھا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں