ملکی قرضہ بلند ترین سطح 80 ہزار 524 ارب روپے تک جا پہنچا

ملکی قرضہ بلند ترین سطح 80 ہزار 524 ارب روپے تک جا پہنچا

ایک سال میں مجموعی قرض میں ریکارڈ 6 ہزار 836ارب اضافہ ہوا،اعدادوشمار ہر شہری 4 لاکھ کا مقروض ،تیز رفتار اضافہ بلند شرح سود کا نتیجہ ،معاشی تجزیہ کار

کراچی(رپورٹ محمدحمزہ گیلانی)سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار نے ملک کی مالی صورتحال کی سنگینی کوبے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ملک کا مجموعی قرضہ تاریخ کی بلند ترین سطح 80 ہزار 524 ارب روپے تک جا پہنچا ہے جبکہ بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ نے ہر پاکستانی شہری کو اوسطاً تقریباً 4 لاکھ روپے کا مقروض بنا دیا ہے ۔ مرکزی بینک کے مطابق مارچ 2026 تک کے ایک سال کے دوران مجموعی قومی قرضے میں ریکارڈ 6 ہزار 836ارب روپے کا اضافہ ہوا، جو سالانہ بنیاد پر 9.30 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق قرضوں میں سب سے بڑا اضافہ مقامی سطح پر دیکھا گیا، جہاں حکومت کا اندرونی قرض ایک سال میں 6 ہزار 48 ارب روپے بڑھ کر 57 ہزار 566 ارب روپے کی بلندسطح تک پہنچ گیا،جو مجموعی قرضوں کا بڑا حصہ بن چکا ہے۔

دوسری جانب بیرونی قرضوں میں بھی اضافہ جاری رہا، جو ایک سال میں 789 ارب روپے بڑھ کر 22 ہزار 959 ارب روپے تک پہنچ گئے ، تاہم مارچ 2026 کے دوران ایک وقتی ریلیف دیکھنے میں آیا جب بیرونی قرضے میں ایک ماہ کے دوران 244 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جسے ماہرین عارضی اتار چڑھاؤ قرار دے رہے ہیں ۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق قرضوں میں یہ تیز رفتار اضافہ مالیاتی خسارے ،بلند شرح سود، اور کرنٹ اکاؤنٹ کے دباؤ کا نتیجہ ہے ، جبکہ حکومت کی بڑھتی ہوئی مالی ضروریات نے اندرونی قرضوں پر انحصار مزید بڑھا دیا ہے ۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو قرضوں کی ادائیگی پر اخراجات مزید بڑھیں گے ، جس سے ترقیاتی بجٹ اور عوامی فلاح کے منصوبے شدید متاثر ہو سکتے ہیں ۔دستاویزی معیشت کے فقدان اورٹیکس نیٹ کی محدودیت کوبھی اس صورتحال کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں