نیب ترامیم کا ماضی سے اطلاق کیسے؟پہلے رقم ادا کی اب واپس مانگ رہے :آئینی عدالت

نیب ترامیم کا ماضی سے اطلاق  کیسے؟پہلے رقم ادا کی اب واپس  مانگ رہے :آئینی عدالت

کیس 2015کا، ترامیم آٹھ سال بعد کی گئیں، قانون کے اطلاق پر سوالات پیدا ہوتے ہیں:جسٹس حسن اظہر کسی شخص کوبغیر ٹرائل سزا نہیں دی جا سکتی:جسٹس عامر فاروق،سابق ایچ آر منیجرکے پی ٹی کی بحالی کیخلاف اپیل خارج

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے کرپشن کیس میں رضاکارانہ طور پر واپس کی گئی رقم کی واپسی سے متعلق اپیل واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی ۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ وکیل نے کہا ان کے مؤکل پر دباؤ ڈال کر مبینہ طور پر رضاکارانہ رقم واپس کرائی گئی، نیب ترامیم کے مطابق ایسے معاملات میں ریکوری واپس ہو سکتی اور کیس دوبارہ چلایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ موجودہ کیس 2015 کا اور نیب قانون میں ترامیم آٹھ سال بعد کی گئیں، لہٰذا قانون کے اطلاق پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ نیب ترامیم کا اطلاق ماضی سے کیسے ہو سکتا، پہلے رقم ادا کی اور اب واپس مانگی جا رہی ہے جو قانونی طور پر قابل غور ہے ۔ ملزم حسین اللہ کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی میں تعینات اور اس پر غیر قانونی لیز سے کروڑوں روپے کرپشن کا الزام تھا۔جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے دورکنی بینچ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سابق ایچ آر منیجر انس ارباب کی بحالی کے خلاف دائر اپیل خارج کر دی۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کیوں نظر انداز کیا جا رہا۔ کسی شخص کو ٹرائل کے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی۔ دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی اپیل خارج کر دی اور سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جس میں برطرفی کالعدم قرار دے کر پنشن اور دیگر مراعات دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں