پاکستان بھی موبائل سروسز پر سب سے زیادہ ٹیکس لینے والا ملک

پاکستان بھی موبائل سروسز پر سب سے زیادہ ٹیکس لینے والا ملک

مجموعی سیلز اور ٹرن اوور ٹیکس کی شرح 37 فیصد ہے :عالمی معاشی تحقیقی ادار ہ جی ایس ٹی 19اعشاریہ5سے کم کرکے 16 فیصد کیا جائے :فرنٹیئر اکنامکس

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )عالمی معاشی تحقیقی ادارے فرنٹیئر اکنامکس نے اہم رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھی موبائل سروسز پر سب سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے والے ممالک میں شامل ہے جہاں موبائل سروسز پر مجموعی سیلز اور ٹرن اوور ٹیکس کی شرح  37 فیصد ہے اور یہ بھاری ٹیکس ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ عالمی معاشی تحقیقی ادارے نے رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ موبائل سروسز پر مجموعی 37 فیصد سیلز و ٹرن اوور ٹیکس کم کرکے 17 فیصد کیا جائے ،صارفین سے وصول کیا جانے والا 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم ،سالانہ ڈھائی فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کم کرکے 1 فیصد کی جائے ،جنرل سیلز ٹیکس 19اعشاریہ5 فیصد سے کم کرکے 16 فیصد کیا جائے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکسوں میں کمی سے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، موبائل انٹرنیٹ استعمال اور حکومتی محصولات میں طویل المدتی اضافہ ممکن ہے ،رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موبائل سروسز پر 19 اعشاریہ 5 فیصد سیلز ٹیکس، 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس اور 2 اعشاریہ 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی وصول کی جارہی ہے جبکہ موبائل کمپنیوں کے منافع پر 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس کے ساتھ 10 فیصد سپر ٹیکس بھی عائد ہے ،مجوزہ ٹیکس اصلاحات کے بعد موبائل آپریٹرز کی آمدن میں تقریباً 6 اعشاریہ 4 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے ۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ موبائل سروسز ، سم کارڈز اور رسائی سے متعلق اضافی چارجز بھی ختم کیے جائیں، ٹیکس اصلاحات کو پاکستان کی وسیع تر ڈیجیٹلائزیشن حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں