پراپرٹی ٹیکس میں کمی کیلئے آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات اہم مرحلے میں داخل

 پراپرٹی ٹیکس میں کمی کیلئے آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات اہم مرحلے میں داخل

شق سی 236 اورکے 236 کے تحت ٹیکس شرح کم کرانے کیلئے آئی ایم ایف کو قائل کررہے :ایف بی آر کی بریفنگ گردشی قرضہ 5.1 ٹریلین، بیرونی قرضہ 137.56 ارب ڈالر ،بجٹ سے قبل معیشت کو سنگین خطرات، ماہر معاشیات خزانہ کمیٹی کا اجلاس، ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے مسلسل بالواسطہ ٹیکسوں اور پٹرولیم لیوی پر انحصار کرنے پر تشویش کا اظہار

اسلام آباد (مدثر علی رانا) ایف بی آر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو آگاہ کیا کہ حکومت آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں جائیدادوں کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں کمی کیلئے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے ۔ ایف بی آر حکام نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 236C اور 236K کے تحت پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر لاگو ٹیکس شرحوں میں کمی کیلئے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش جاری ہے تاہم اس حوالے سے مذاکرات انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 1300 ارب روپے سے زائد ریونیو اکٹھا کر چکی ہے ۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ بجٹ کی تیاری کا عمل وزارت خزانہ کے ماتحت ٹیکس پالیسی یونٹ کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ ٹیکس پالیسی سازی کو مزید مؤثر اور مربوط بنایا جا سکے ۔قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا جس میں حالیہ خطے کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے پراپرٹی سیکٹر میں ممکنہ سرمایہ کاری پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران ارکان نے اس امکان پر بحث کی کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے اثاثے اور سرمایہ پاکستان منتقل کر کے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جس کیلئے پراپرٹی ٹیکسوں میں کمی اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو یاد دلایا کہ حکومت پہلے ہی مختلف شہروں میں جائیدادوں کی ویلیوایشن ریٹس میں کمی کر چکی ہے تاکہ پراپرٹی مارکیٹ کو متحرک کیا جا سکے ۔اجلاس میں پرائم انسٹیٹیوٹ کے ماہر معاشیات علی سلمان نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ملک کے گیس اور بجلی کے شعبوں کا گردشی قرضہ بڑھ کر 5.1 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا جس میں گیس سیکٹر کا 3.3 ٹریلین اور بجلی شعبے کا 1.8 ٹریلین روپے شامل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ 137.56 ارب ڈالر تک پہنچ چکا جبکہ معیشت بتدریج بحالی کے آثار دکھا رہی ہے تاہم ملک اب بھی نازک معاشی استحکام کے مرحلے میں ہے اور آئندہ بجٹ سے قبل معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہیں ۔ قائمہ کمیٹی کے ارکان نے بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری، غربت، قرضوں میں اضافے اور ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کے بجائے مسلسل بالواسطہ ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی پر انحصار پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ حکومت کا مسلسل بالواسطہ ٹیکسوں اور پٹرولیم لیوی پر انحصار ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے جبکہ پائیدار بنیادوں پر ٹیکس نیٹ بڑھانے کی رفتار انتہائی سست ہے ۔ انہوں نے گردشی قرضوں میں اضافے ، سرکاری اداروں میں اصلاحات کی سست رفتار اور مہنگائی و غربت کے باعث عوام پر بڑھتے سماجی و معاشی دباؤ پر بھی تشویش ظاہر کی۔سید نوید قمر نے کہا کہ ایف بی آر مسلسل نئے ٹیکس اقدامات نافذ کرنے کے باوجود محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ پہلے سے ٹیکس دینے والے شعبوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت کو منصفانہ اور دیرپا اصلاحات کے ذریعے ٹیکس نیٹ وسیع کرنا ہوگا۔کمیٹی ارکان نے اس بات پر بھی تحفظات ظاہر کیے کہ صوبائی مالیاتی سرپلس کو وفاقی حکومت آئی ایم ایف اہداف پورے کرنے کیلئے استعمال کر رہی ہے جبکہ ترقیاتی اخراجات مسلسل کم ہو رہے ہیں اور زیادہ وسائل قرضوں کی ادائیگی اور جاری اخراجات پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں ارکان نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ پاکستان کی برآمدی کارکردگی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کمزور ہے جبکہ صنعتی اور پیداواری شعبے مطلوبہ رفتار سے ترقی نہیں کر پا رہے ۔کمیٹی نے زور دیا کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ صرف قلیل مدتی معاشی استحکام تک محدود نہ رہے بلکہ اسے پائیدار معاشی اصلاحات، مالی شفافیت، بہتر حکمرانی اور جامع معاشی ترقی کیلئے بنیاد بنایا جائے ۔ چیئرمین کمیٹی نے بجٹ سٹرٹیجی پیپر کی بروقت عدم فراہمی پر بھی اعتراض اٹھایا اور کہا کہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت وزارت خزانہ قانونی طور پر پابند ہے کہ بجٹ اجلاس سے قبل یہ دستاویز پارلیمنٹ کو فراہم کرے تاکہ ارکان بجٹ کا مؤثر جائزہ لے سکیں۔معاشی ماہرین کے مطابق حکومت اس وقت ایک طرف آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور دوسری طرف سست معاشی سرگرمیوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ پراپرٹی سیکٹر کو ریلیف دینے کی ممکنہ تجاویز آئندہ بجٹ میں اہم پیشرفت ثابت ہو سکتی ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں