پشاور پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس،30ارکان غائب

پشاور  پی  ٹی  آئی  کی  پارلیمانی  پارٹی  کا  اہم  اجلاس،30ارکان  غائب

علی امین گنڈاپور، فضل الٰہی ، نیک محمد ودیگر ارکان شریک نہیں ہوئے ، ذرائع ،وزیراعلیٰ کے ناراض ارکان سے رابطے تیز واٹس ایپ گروپ میں سہیل آفریدی ،علی امین میں لفظی تکرار ، فاروڈ بلاک بنانے والوں پر زمین تنگ کردینگے ، شفیع جان

پشاور( مانیٹرنگ ڈیسک ،آن لائن،این این آئی )خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرصدارت پی ٹی آ ئی کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس ہوا تاہم اس اجلاس سے 30 سے زائد اراکین غیر حاضر رہے ، ذرائع کے مطابق ناراض اراکین نے اجلاس میں  شرکت نہیں کی ، 92 اراکین پرمشتمل پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 30 سے زائد اراکین غیرحاضر رہے ،ذرائع نے بتایاکہ علی امین گنڈاپور، فضل الہٰی، نیک محمد سمیت دیگر شریک نہیں ہوئے ، بیشتر ناراض ارکان نے ملک سے باہر ہونے یا دیگر مصروفیات کوعدم شرکت کی وجہ قرار دیا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ سے متعلق معاملات پرکئی اراکین وزیراعلیٰ سے ناراض ہیں، بعض اراکین ترقیاتی کاموں، حلقہ جاتی امور سے متعلق وزیراعلیٰ سے شکوہ رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں خبر سامنے آئی تھی کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 20 سے زیادہ ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ناخوش ہیں، دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنی جماعت کے ناراض ایم پی ایز کو منانے کیلئے متحرک ہوگئے ہیں ، ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے ناراض ارکان سے رابطوں کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے متعدد اراکین سے براہِ راست اور ٹیلیفونک گفتگو کی ،علاوہ ازیں وہ گزشتہ رات گئے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی کی رہائش گاہ بھی پہنچ گئے۔

جہاں دونوں رہنماؤں میں تفصیلی ملاقات ہوئی ،اس موقع پر سیاسی صورتحال، پارٹی امور اور ضلع خیبر سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پارٹی ذرائع کے مطابق کئی اراکین اسمبلی نے تحفظات سے متعلق پارٹی کی مرکزی قیادت کو آگاہ کیا، جس پر مرکزی قیادت نے وزیراعلیٰ کو ناراض ارکان کے تحفظات دور کرنے اور انہیں مناسب سیاسی و انتظامی نمائندگی دینے کی ہدایت کر دی ، دوسری طرف ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں اختلاف کا معاملہ سنگین ہوگیا ، پارلیمانی گروپ کے واٹس ایپ گروپ میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور میں لفظی تکرار ہوئی، سہیل آفریدی نے پارلیمانی گروپ میں کہا تھا کہ کچھ عناصر پارٹی کے اندر اور باہر حکومت کو کمزور کررہے ہیں ۔ جس پر علی امین گنڈاپور نے جواب دیا کہ تم نام کیوں نہیں لیتے ،ڈائیلاگ کیوں مارتے ہو۔ وزیراعلیٰ صاحب غداری اور وفاداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کی اتھارٹی آپ نہیں ،علی امین گنڈاپور نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ جو ذمہ داریاں دی گئیں ان پر فوکس کریں، عمران خان کے علاوہ ہم کسی اور کو نہیں مانتے ، علاوہ ازیں خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے دھمکی دی ہے کہ اگر فاروڈ بلاک بنے گا تولوگ سامنے آئیں گے ، اگر کوئی ایک بھی ایسی حرکت کرے گا تو کے پی کی زمین اس پر تنگ کر دی جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں