اسمبلی فلور پر اپوزیشن کو مذاکرات کی حکومتی پیشکش کتنی سنجیدہ

 اسمبلی فلور پر اپوزیشن کو مذاکرات کی حکومتی پیشکش کتنی سنجیدہ

پی ٹی آئی کاجارحانہ اور احتجاجی بیانیہ المیہ ،پہلے بھی کئی بار پیشکش رد کر چکی

(تجزیہ:سلمان غنی)

بجٹ سیشن کے دوران قومی اسمبلی کے فلور پر وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت کی پیشکش کو موجودہ حالات میں استحکام کی منزل پر پہنچنے کا بہترین ذریعہ قرار دیا جا سکتا ہے ،جس کے ذریعے سیاسی محاذ پر بھی تناؤ کا خاتمہ ممکن ہے اور معاشی حوالہ سے خود انحصاری کی منزل پر پہنچنے کا بھی راستہ بن سکتا ہے ۔ لہٰذا اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے میثاق معیشت کی پیشکش کس حد تک سنجیدہ ہے ، اپوزیشن حکومتی پیشکش کو قبول کر پائے گی اورکیا مستقبل قریب میں سیاسی قوتوں کو کچھ اہم نکات پر جمع کیا جا سکے ۔جہاں تک وزیراعظم شہباز شریف کی پیشکش کا سوال ہے تو اس کی ٹائمنگ اہم ہے اس لئے کہ جمہوری دنیا میں پارلیمنٹ کے فلور سے کی جانے والی بات کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا جاتا ہے ، شہباز شریف نے پی ٹی آئی دور میں اس وقت بھی پارلیمنٹ کے فلور سے اس وقت کے وزیراعظم کو میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی جسے مسترد کر دیاگیا تھا ۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس سے پہلے بھی قومی اسمبلی کے فلور سے ہی اپوزیشن خصوصاً پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کے لیڈر کو جیل میں مشکلات یا دیگر ایشوز درپیش ہیں تو ہم ان سے بات چیت کے لئے تیار ہیں لیکن اس وقت کے اپوزیشن لیڈر نے قائد ایوان کی اس پیشکش پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بھی مسترد کر دیا تھا ۔ پی ٹی آئی کا بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ ان کی سیاست جارحانہ اور احتجاجی بیانیہ سے منسلک رہی ہے اور وہ سیاست میں ڈائیلاگ اور مذاکرات کے زیادہ قائل نہیں رہے ، خود ان کی جیل میں بند لیڈر شپ بھی پہلے پہل تو مذاکرات سے ہی گریزاں رہی ہے لیکن 9مئی کے واقعات کے بعد فیصلہ ساز بھی سمجھتے ہیں کہ اگر کسی نے مذاکرات کرنا ہیں تو انہیں حکومت سے کرنا چاہئیں ۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اﷲخان بھی ایک عرصہ سے اپوزیشن سے اچھے روابط کی بحالی کے لئے سرگرم رہے لیکن وہ معاملہ بھی آگے نہ بڑھ سکا، اب اگر پھر سے قائد ایوان اپوزیشن سے میثاق معیشت یا میثاق جمہوریت کی بات کر رہے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ مذاکرات کے خواہاں اور اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں۔ سیاسی حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ اس مرحلہ پر وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا مقصد حکومت کا سیاسی دباؤ سے نکلنا اور آگے بڑھنا ہے ،لیکن اس پیشکش کا جواب بھی مثبت نظر نہیں آ رہا ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک معیشت پر سیاست کی بجائے سنجیدگی اختیار نہیں کی جاتی پاکستان بحرانی کیفیت سے نہیں نکل سکتا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں