اچکزئی کا ولایتی لسی کا تذکرہ وزیراعظم کو بھائی کہہ کر پکارتے رہے
اسلام آباد (سہیل خان) قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس 2026-27 پر بحث کا آغاز اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کیا۔ انہوں نے تاریخ کے ورق الٹتے ہوئے ایوان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر وزیراعظم شہباز شریف سے کہا کہ پارلیمنٹ کو مضبوط کریں۔
اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اس قدر جذباتی ہوگئے کہ ڈیسک پر زور زور سے ہاتھ مارتے ہوئے حکومتی ارکان سے داد وصول کرتے رہے ۔اسمبلی میں بحث کے دوران مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو زرداری، آصفہ سمیت دیگر اہم شخصیات موجود نہ تھیں، تاہم وزیراعظم کے ایوان میں اپنی نشست پر بیٹھتے ہی حکومتی مرد و خواتین ارکان سلام کیلئے ان کے پاس آتے رہے ۔اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی بار بار وزیراعظم کو ‘‘بھائی’’ کہہ کر پکارتے رہے اور دیرینہ دوستی کا بھی ذکر کرتے رہے ۔ اپنی تقریر کے دوران انہوں نے 7 کروڑ افراد کے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے کا ذکر کیا۔
جب انہوں نے ‘‘ولایتی لسی’’ کا حوالہ دیا تو وزیراعظم سمیت ایوان میں موجود ارکان مسکرانے لگے ۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تقریر ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ فنِ تقریر کے ماہر ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے حکومت کو بار بار ترامیم لانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ملک میں عوامی مسائل کے حل کیلئے بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے اور نچلی سطح پر فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا۔فاروق ستار نے اپنی تقریر کے اختتام پر شعر پڑھا‘‘کیا پوچھتے ہو حال میرے کاروبار کا، آئینے بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں’’فاروق ستار کی تقریر طویل ہوگئی تو ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفی شاہ نے انہیں روکتے ہوئے کہا کہ 45 منٹ ہو چکے ہیں، اب تقریر سمیٹیں۔ تاہم وہ مسلسل ایک ایک منٹ کی مہلت مانگ کر اپنی تقریر کو طوالت دیتے رہے ۔