مارچ کے نوٹیفکیشن سے فروری کی لیوی وصول نہیں کی جاسکتی : وفاقی آئینی عدالت

 مارچ کے نوٹیفکیشن سے فروری  کی لیوی وصول نہیں کی جاسکتی : وفاقی آئینی عدالت

حکومت نے لیوی کیلکولیشن کی کوئی دستاویز پیش نہیں کی:وکیل، جس بابو نے ڈرافٹنگ کی اس سے پوچھا جائے :جسٹس عامر فاروق سمری، ڈرافٹنگ و دیگر متعلقہ دستاویزات عدالت کے سامنے موجود نہیں، ریکارڈ دستیاب نہیں تو عدالت سے کیا لینے آئے :ریمارکس آرٹیکل 199کے تحت ہائیکورٹ کو سو موٹو اختیار حاصل نہیں:محفوظ فیصلہ سنا دیا، سندھ ہائیکورٹ کے احکامات جزوی کالعدم قرار

اسلام آباد (حسیب ریاض ملک)وفاقی آئینی عدالت نے پرائیویٹ پاور پلانٹس پر عائد لیوی سے متعلق سندھ ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نیپرا سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر کے سماعت ملتوی کر دی۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس عامر فاروق نے متعدد اہم سوالات اٹھائے اور استفسار کیا کہ حکومت کی جانب سے لیوی کا نوٹیفکیشن کب جاری کیا گیا اور کیا اوگرا ہر پاور پلانٹ کی پاور جنریشن کاسٹ کا تعین کرتی ہے ؟ کیا تمام پرائیویٹ پاور پلانٹس کا ٹیرف ایک جیسا ہے یا الگ الگ مقرر ہے ۔کمپنیوں کے وکیل نے بتایا کہ ہر پاور پلانٹ کا نیپرا کی جانب سے الگ ٹیرف مقرر کیا جاتا ہے ۔ لیوی کا نوٹیفکیشن مارچ میں جاری ہوا فروری کے مہینے پر لیوی عائد نہیں کی جا سکتی۔ حکومت نے لیوی کیلکولیشن کس بنیاد پر کی کوئی دستاویز عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ جس بابو نے ڈرافٹنگ کی ہوگی اس سے پوچھا جائے ۔انہوں نے استفسار کیا کہ کیا سمری، ڈرافٹنگ اور دیگر متعلقہ دستاویزات ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی تھیں۔ یہ دستاویزات تو عدالت کے سامنے بھی موجود نہیں، جب بنیادی ریکارڈ ہی دستیاب نہیں تو آپ عدالت سے کیا لینے آئے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ مارچ میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے ذریعے فروری کی مدت کیلئے لیوی وصول نہیں کی جا سکتی۔ مزید سماعت ملتوی کر دی گئی۔ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی بھرتیوں سے متعلق درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار اپنے تمام اعتراضات سندھ ہائیکورٹ کے سامنے اٹھائیں جہاں مقدمہ زیر سماعت ہے ۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ نے ریکارڈ غالباً جائزہ لینے کیلئے طلب کیا ہوگا، درخواست گزار کو کسی حکم یا کارروائی پر اعتراض ہے تو تمام نکات سندھ ہائیکورٹ کے سامنے اٹھائے جائیں۔ وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سندھ ہائیکورٹ کے 27 اکتوبر اور 3 نومبر 2025 کے احکامات کے خلاف دائر اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے مذکورہ احکامات کو جزوی کالعدم قرار دے دیا اور فیصلے میں کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے پولیس حکام کے خلاف ازخود کارروائی اور پولیس کی پالیسی گائیڈ لائنز میں مداخلت کرکے اپنے آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا جبکہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کو سو موٹو اختیار حاصل نہیں۔ وفاقی آئینی عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف جاری انکوائریاں اور تحقیقات قانون کے مطابق جاری رہیں گی۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں