عمران، بشریٰ قید تنہائی، درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

عمران، بشریٰ قید تنہائی، درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اگر قابلِ سماعت ہونے پر مطمئن ہوئے تو جیل حکام کو جواب دینا ہو گا:جسٹس خادم

اسلام آباد (رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قید تنہائی سے متعلق درخواستیں قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ علیمہ خانم اور مبشرہ خاور مانیکا کی درخواستوں پر سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور موقف اختیار کیاکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ کیس سامنے آیا ہے جہاں خاتون کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ، یہ روٹین کے کیسز ہیں حساس کیس نہیں۔ جسٹس خادم حسین نے استفسار کیاکہ آپ کی حال ہی میں کیا ملاقات نہیں ہوئی؟ بیرسٹر سلمان نے کہا عدالتی حکم پر بانی سے ملاقات ہوئی لیکن بشریٰ سے 7 ماہ سے ملاقات نہیں کرائی گئی۔بانی پی ٹی آئی 74 سال کے ہیں ایک آنکھ کی بینائی جا چکی، کسی کی ملاقات نہیں کرائی جا رہی، بانی نے مجھے کہا مجھے 22 گھنٹے جبکہ بشریٰ کو 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے ، سات ماہ سے بانی کو قید تنہائی میں رکھا گیا یہ بہت الارمنگ ہے ، اخبار نہ ٹی وی دیا جا رہا، دونوں میاں بیوی کی آنکھ کی سرجریز ہوئیں انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

سماعت میں وقفہ کے بعد نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے دلائل میں قید تنہائی کی درخواستیں قابل سماعت ہونے پر سوالات اٹھا دیئے اور کہا یہ فنانشل کرپشن کا کیس ہے ، دونوں اڈیالہ جیل میں قیدی ہیں، بیگم شمیم آفریدی کیس میں متاثرہ فریق کے معاملے کو ڈسکس ہی نہیں کیا گیا، نصرت بھٹو کیس کے وقت مارشل تھا آئین معطل تھا۔ علمیہ خانم اور مبشرہ خاور مانیکا متاثرہ فریق نہیں بنتیں، درخواستیں قابل سماعت نہیں۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے جواب الجواب دلائل میں کہا نیب پراسیکیوٹر کو عدالت میں جیل سپرنٹنڈنٹ کا دفاع نہیں کرنا چاہیے ۔ آپ بانی اور بشریٰ بی بی کو عدالت میں طلب کر کے اُن سے پوچھیں کہ کیا حالات ہیں،وہ خود بتائیں گے کہ ہمارے تو وکالت نامے ہی نہیں دیئے جاتے ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے کہا بطور فرینڈ آف کورٹ سلمان صفدر نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی تھی جس میں جیل کی مثبت صورتحال لکھی تھی، جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا پہلے ہم طے کریں گے کہ کیس قابلِ سماعت ہے یا نہیں، اگر قابلِ سماعت ہونے پر مطمئن ہوئے تو پھر جیل اتھارٹیز کو جواب تو دینا ہو گا، میں نے دونوں فیصلے دیکھے ہیں قیدِ تنہائی کی کوئی سزا نہیں، نیب مقدمات میں قیدِ تنہائی نہیں ہوتی۔ بیرسٹر سلمان صفدر سے کہاکہ اسی بینچ میں آئندہ سماعت رکھنی ہے تو اگست کے پہلے ہفتے میں ہی ہو سکتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں