خواتین اساتذہ کی ہراسگی پرخاموشی ناقابل قبول :سپریم کورٹ
محفوظ ماحول فراہمی،شکایات پر کارروائی تعلیمی اداروں کے سربراہوں کی ذمہ داری پنجاب سروس ٹربیونل کا حکم کالعدم، شازیہ اقبال کی پانچ سالہ سروس ضبطی سزابحال
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)خواتین اساتذہ کی ہراسگی پر خاموشی ناقابل قبول، سپریم کورٹ نے ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے سربراہوں کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین اساتذہ کو ہراسگی سے محفوظ ماحول فراہم کریں اور اگر انہیں ہراسگی کی شکایات موصول ہوں تو ان پر فوری اور مؤثر کارروائی کریں،بصورت دیگر انہیں اپنی انتظامی غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے ۔تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر نے پنجاب حکومت اور شازیہ اقبال کی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب سروس ٹربیونل کا وہ حکم کالعدم قرار دے دیا جس کے ذریعے پانچ سالہ سابقہ سروس ضبط کرنے کی سزا کم کرکے ایک سال کر دی گئی تھی اور محکمہ کی جانب سے عائد کی گئی پانچ سالہ سروس ضبطی کی سزا بحال کر دی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ تعلیمی ادارے صرف تعلیم دینے کی جگہ نہیں بلکہ خواتین اور دیگر ملازمین کے لیے محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کرنے کے پابند ہیں۔عدالت نے کہا ہر تعلیمی ادارے میں انسداد ہراسگی پالیسی، شکایات درج کرنے کا مؤثر نظام، غیر جانبدار انکوائری کمیٹیاں اور شکایت کنندگان کو انتقامی کارروائی سے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کام کی جگہ پر ہراسگی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنا تمام اداروں کی ذمہ داری ہے ۔