مسترد دعویٰ بار بار درخواستو ں سے زندہ نہیں ہوتا:آئینی عدالت

مسترد دعویٰ بار بار درخواستو ں  سے زندہ نہیں ہوتا:آئینی عدالت

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایک بار مسترد ہو جانے والے دعوے کو بار بار درخواستیں دے کر دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا، غیر معمولی تاخیر سے دائر کی گئی آئینی درخواستیں بھی قابل سماعت نہیں ہوتیں۔

جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ نے منیجنگ ڈائریکٹر او جی ڈی سی ایل و دیگر کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا 26 اکتوبر 2022 کا فیصلہ اکثریتی بنیاد پر (2-1) کالعدم قرار دیا جبکہ جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے اختلافی نوٹ دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانون مسترد شدہ دعوؤں کو دوبارہ زندہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئینی دائرہ اختیار صوابدیدی اور مساوی انصاف پر مبنی اختیار ہے اس لیے جو شخص برسوں تک اپنے حق کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی نہ کرے وہ غیر معمولی تاخیر کے بعد عدالت سے ریلیف کا حق دار نہیں ہوتا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...