قانون میں کم عمری شادی پر سزا ،نہ نکاح منسوخی :آئینی عدالت
بچی نے کسی مرحلے پر یہ نہیں کہا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی:جسٹس حسن اظہر ماریہ شہباز کوورغلا کر مذہب تبدیل کرایا گیا:وکیل،اٹارنی جنرل سے معاونت طلب
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق مقدمے میں دائر نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے قانونی معاونت طلب کر لی۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، حالانکہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کرایا گیا۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے ؟ وکیل نے جواب دیا کہ شادی کے لیے 18 سال عمر مقرر ہے ، اس لیے قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر موجود ہے ، تاہم نکاح کو منسوخ قرار دینے کا ذکر نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عمر کم بھی ہو اور شادی ہو جائے تو قانون اس صورتحال کا کیا حل فراہم کرتا ہے ؟دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ نہیں کہا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی۔ انہوں نے کہا چونکہ درخواست گزار اپنے مؤقف پر اصرار کر رہے ہیں، اس لیے عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کرے گی۔بعد ازاں عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments