ن لیگ پیپلزپارٹی تنائو میں مفاہمت کا بادشاہ زرداری خاموش
دونوں بڑی پارٹیاں ایک ہی کشتی میں سوار،ایک ڈوبا تودوسرا بھی نہیں بچے گا
(تجزیہ:سلمان غنی)
آزاد کشمیر کے انتخابی محاذ پر مسلم لیگ (ن) کی واضح برتری کو پیپلزپارٹی اور اس کی لیڈر شپ قبول کرنے کو تیار نہیں اور وہ انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے کر انہیں متنازعہ بنانے پر تلی ہے ،جبکہ حکومت پیپلزپارٹی کے اس بیانیہ کو اپنی شکست سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیتی نظر آ رہی ہے ۔ مذکورہ صورتحال میں اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ وفاق میں اتحادی جماعتوں کے درمیان کشمکش کے اثرات وفاقی حکومت پر تو نہیں پڑیں گے ،جہاں تک کشمیر کے انتخابی نتائج کا سوال ہے تو عام تاثر یہی تھا کہ یہاں مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی سے آگے ہے اور ن لیگ کی جیت کے واضح امکانات ہیں،ویسے بھی روایت یہی ہے کہ مظفرآباد میں اس کی حکومت ہوتی ہے جن کی اسلام آباد میں حکومت ہو، بلاول بھٹو زرداری کے شدید ردعمل کا دوسرے مرحلہ پر بھی کوئی خاطر خواہ اثر نہ پڑا اور مسلم لیگ دوسرا مرحلہ بھی واضح اکثریت سے جیت گئی۔ حیرانگی اس بات پر ہے کہ کیا بلاول کو زمینی حقائق کا علم نہ تھا، اس سے پہلے گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی سادہ اکثریت حاصل نہ کرسکی لیکن ن لیگ نے پیپلزپارٹی کی حکومت بنانے میں معاونت کی ،عام تاثر یہ تھا کہ آزاد کشمیر میں ن لیگ حکومت بنائے گی ،لیکن پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کو بنیاد بنا کرانتخابی ساکھ پر اثرانداز ہونا چاہتی ہے ، کیا وہ ایسا کر پائے گی؟، فی الحال تو ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی کسی خاص ایجنڈا پر سرگرم ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ ن کی قیادت کی جانب سے صبرو حوصلہ کی تلقین کے باوجود ن لیگ دفاعی محاذ اختیار کرنے کو تیار نہیں ،اس سے قبل بھی متعدد بار اتحادیوں میں ا ختلافات سامنے آئے لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے کمال مہارت سے ان پر قابو پایا۔ ویسے تو صدر آصف زرداری جنہیں مفاہمت کا بادشاہ قرار دیا جاتا ہے انہوں نے کئی بار اتحادیوں کے درمیان بڑھتے درجہ حرارت پر پانی ڈالا اور معاملات کو خطرناک زون میں نہیں جانے دیا، اس مرحلہ پر پریشانی کی بات یہی ہے کہ اب صدر آصف زرداری خاموش ہیں اور مفا ہمتی کردار ادا کرتے نظر نہیں آ رہے ، اطلاعات ہیں کہ وہ بھی ججز کی تقرریوں کے عمل سمیت بعض امور پر ناراض ہیں لیکن اس کا کھلا اظہار کرنے سے گریزاں ہیں،ن لیگ کو دباؤ میں لانا پیپلزپارٹی کی خواہش ہے یا کسی اور کی ، فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ویسے تو کچھ ماہرین پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان تناؤ کے عمل کو بھی معنی خیز قراردیتے رہے ہیں اور اسے نئے صوبوں سے جان چھڑانے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے نظر آ رہے ہیں۔ جہاں تک پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان تناؤ اور ٹکراؤ کا تعلق ہے تو دونوں جانب اس امر کا واضح احساس ہے کہ سب ایک کشتی پر سوار ہیں، ایک کو ڈبونے کے عمل سے دوسرا بچ نہیں پائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments