شہباز کی مذاکراتی پیشکش، سیاسی منظرنامے کا نیا امتحان

شہباز کی مذاکراتی پیشکش، سیاسی منظرنامے کا نیا امتحان

حکومت ،اپوزیشن کا نئے صوبوں ، اہم آئینی تقرریوں پر سیاسی اتفاق رائے ضروری

(تجزیہ :سلمان غنی )

مسلسل سیاسی کشیدگی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طویل فاصلے اور ملک کو درپیش اہم سیاسی و انتظامی معاملات کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت بلاشبہ ایک اہم پیشرفت ہے ۔ پارلیمنٹ کے بعد کابینہ کے ذریعے سامنے آنے والی اس پیشکش کو موجودہ حالات میں بروقت اور سنجیدہ اقدام قرار دیا جاسکتا ہے ۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ وہ ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ بامقصد بات چیت کیلئے تیار رہے ہیں، تاہم مذاکرات کیلئے دونوں فریقوں کا آمادہ ہونا ضروری ہے ۔ اب اصل سوال یہی ہے کہ حکومت کی یہ پیشکش کس حد تک سنجیدہ اور بامقصد ہے ، کیا حکومت مذاکرات کیلئے سازگار ماحول فراہم کرسکے گی اور اپوزیشن بالخصوص پی ٹی آئی اس موقع سے کس طرح فائدہ اٹھاتی ہے ۔وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی زندگی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کی بات نئی نہیں۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں جب سیاسی کشیدگی عروج پر تھی، اس وقت اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے شہباز شریف نے چارٹر آف اکانومی کی تجویز پیش کی تھی، تاہم اس وقت یہ تجویز پذیرائی حاصل نہ کرسکی۔ سیاسی حالات، باہمی عدم اعتماد اور 9 مئی کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے مفاہمت کی ان کوششوں کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔

اب سیاسی منظرنامہ ایک مرتبہ پھر تبدیلی کے مرحلے میں دکھائی دیتا ہے ۔ نظام حکومت، گورننس، نئے صوبوں کے قیام اور بلدیاتی اداروں کو مو ثر بنانے سمیت کئی اہم سوالات زیر بحث ہیں۔ ایسے وقت میں وزیراعظم کی جانب سے ’’بامقصد مذاکرات‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت محض سیاسی ملاقات یا رسمی مذاکرات کے بجائے بعض بنیادی معاملات پر اپوزیشن سے سنجیدہ مشاورت چاہتی ہے ۔تاہم مذاکرات کی کامیابی صرف دعوت دینے سے ممکن نہیں، حکومت کو اس کیلئے سیاسی ماحول بھی سازگار بنانا ہوگا۔ فریقین کو ایک دوسرے پر اعتماد کی بحالی، سیاسی قیدیوں، مقدمات، انتخابی معاملات اور دیگر متنازعہ امور پر بھی بات کرنا ہوگی۔ اگر مذاکرات سے پہلے ہی فریقین اپنی اپنی شرائط کو حتمی قرار دے دیں تو یہ عمل آگے بڑھنا مشکل ہوگا۔اس حوالے سے عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست واپس لینا بھی اہم پیشرفت ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت مذاکرات کیلئے بعض شرائط پیش کرتی رہی ہے ، جن میں عمران خان کیلئے ریلیف اور ان کے خاندان سے ملاقاتوں جیسے معاملات شامل تھے ۔ ملاقاتوں کا معاملہ اب بڑی حد تک حل ہونے کے بعد مذاکرات کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ کم ہوئی ہے ۔اس مرحلے پر بیرسٹر گوہر کے رابطوں اور محمود خان اچکزئی کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم فیصلہ کن بات یہ ہوگی کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس موقع کو محض وقتی سیاسی حکمت عملی کے طور پر دیکھتی ہے یا اسے وسیع تر سیاسی مفاہمت کا ذریعہ بناتی ہے ۔اصل چیلنج یہ ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو ان کا ایجنڈا کیا ہوگا۔ نئے صوبوں کا معاملہ، مو ثر بلدیاتی نظام، گورننس میں بہتری، انتخابی اصلاحات اور بعض اہم آئینی تقرریاں ایسے موضوعات ہیں جن پر وسیع سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...