سوال کا جواب چار اجلاسوں سے نہ ملنے پر سپیکر برہم،افسران ایوان طلب
اسلام آباد (نامہ نگار)قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت بین الصوبائی رابطہ سے متعلق سوال کا جواب مسلسل چار اجلاسوں سے موصول نہ ہونے پر سپیکر ایاز صادق نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر سنجیدگی سے بزنس نہیں لینا تو پھر وقفہ سوالات نہیں کرتے ۔سپیکر نے وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل کو ہدایت کی کہ وزارت کے سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری اور سیکشن افسر کو فوری ایوان میں طلب کیا جائے اور کارروائی مکمل ہونے تک موجود رہنے کی ہدایت کی جائے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ جواب نہ آیا تو وزیر پارلیمانی امور اور متعلقہ افسر کے خلاف تحریک استحقاق لائی جائے گی۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر عون چودھری نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے زمین اور جائیداد سے متعلق تنازعات کے بروقت حل کے لیے اسلام آباد کے بعد پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں اوورسیز کورٹس قائم کردی گئی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اوورسیز کورٹس کے قیام کا بل صوبائی حکومت کے پاس زیرغور ہے جبکہ سندھ حکومت سے بھی خصوصی عدالتوں کے قیام کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔
سپیکر نے معاملے پر تحریری رپورٹ طلب کرلی۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل نے بتایا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان سمیت خلیجی ممالک سے یکم مارچ 2026 تک 21951 پاکستانی ڈی پورٹ کیے گئے ۔انہوں نے کہا کہ ڈی پورٹیشن کی وجوہات میں اقامہ و ویزا قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی رہائش، منشیات، مفروری اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیاں شامل ہیں جبکہ تفصیلی فہرست ایوان کے ریکارڈ میں جمع کرا دی گئی ہے ۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ اسلام آباد میں 300 سے زائد نجی و دیگر تعلیمی اداروں کو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ریگولیٹ کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے مسئلے کے مستقل حل اور شہر میں ٹریفک و رہائشی علاقوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے سی ڈی اے سیکٹرز سے باہر جامع ایجوکیشن سٹی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔ وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بتایا کہ حجاج کرام کی سفری ذمہ داریاں معمول کے مطابق پی آئی اے اور سعودی ایئر لائن کے درمیان 50،50 فیصد تقسیم کی جاتی ہیں، جبکہ دیگر نجی ایئر لائنز کی گنجائش محدود ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments