پاک شام سفارتی تعلقات جلداپ گریڈہونے کاامکان

پاک شام سفارتی تعلقات جلداپ گریڈہونے کاامکان

اسلام آباد دمشق کے درمیان براہِ راست پروازیں دوبارہ بحال کرنے پر بھی غور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی حمایت کرتے ،شامی وزیرخارجہ کی غیر رسمی گفتگو

 اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد احمد الشرع کے اقتدار میں آنے کے بعد      شامی وزیر خارجہ کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی اپ گریڈیشن پر بات چیت ہوئی ، امکان ہے کہ سفارتی تعلقات جلد سفیروں کی سطح پر اپ گریڈ کئے جائیں گے ، شامی وزیر خارجہ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا دونوں ممالک کی سفارتی نمائندگی موجود ہے اور پاکستان ،شام سفارتی تعلقات کو سفیروں کی سطح پر اپ گریڈ کریں گے ، اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ہوئی، اس کے علاوہ اسلام آباد اور دمشق کے درمیان براہِ راست پروازیں دوبارہ بحال کرنے پر بھی غور کیا گیا،دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیٹی (جوائنٹ منسٹریل کمیٹی) کے قیام پر بھی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا مستقبل میں عسکری، اقتصادی اور دیگر وفود کا تبادلہ کیا جائے گا ،شامی وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا حکومتِ پاکستان، وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے شاندار خیر مقدم کیا گیا۔

پاکستان اور شام کے عوام کے درمیان فطری (آرگینک)تعلقات ہیں اور دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ یہ تعلقات مزید مضبوط ہوں، ہم عوامی سطح پر روابط بڑھانے کے لئے راستے کھولنا چاہتے ہیں۔ یقیناً یہ میرا پہلا دورہ تھا لیکن اس دورے سے قبل ڈیڑھ سال سے ہمارے درمیان رابطے جاری تھے ، افغانستان سے دہشت گردی کے معاملے پر شام نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے ۔ شامی وزیر خارجہ نے کہا ہم دہشت گردی کے خاتمے کے معاملے پر پاکستان کی حمایت کرتے ہیں اور پاکستان کے استحکام کے لیے اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی تائید کرتے ہیں ، ہم افغانستان کے اندر سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور افغانستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا لبنان کے معاملے پر ہم لبنان کے استحکام کی حمایت کرتے ہیں ،لبنان ہمارا پڑوسی ملک ہے اور ہم اس کی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہم ایران پر بھی زور دیتے ہیں کہ وہ دیگر ممالک کے اندر مداخلت سے گریز کرے ہم ایک محفوظ اور مستحکم لبنان چاہتے ہیں اگر لبنان کی حکومت کو ہماری مدد کی ضرورت ہوگی تو ہم وہاں جائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...