جے آئی ٹی بنانے کا کوئی لازمی اختیار حاصل نہیں:سندھ ہائیکورٹ
مقدمے میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعات ہوتیں تب بھی یہ حکومت کا اختیار ہوتا میر رضا قتل کیس: جے آئی ٹی کی درخواست شفاف تحقیقات کی یقین دہانی پر نمٹا دی گئی
کراچی (کورٹ رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے میر رضا علی خان قتل کیس میں اہلخانہ کی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست تفتیشی افسر کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی پر نمٹا دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ کو جاری فوجداری تفتیش میں مداخلت یا نگرانی کا اختیار نہیں، جے آئی ٹی تشکیل دینے کا بھی کوئی لازمی قانونی اختیار حاصل نہیں۔جسٹس محمد جعفر رضا کے تحریر کردہ فیصلے کے مطابق اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے تفتیش میں مبینہ خامیوں اور تضادات کی بنیاد پر جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ایسا کون سا قانون ہے جس کے تحت ہائیکورٹ کو جے آئی ٹی تشکیل دینے کا اختیار حاصل ہو۔ فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ ایف آئی آر میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی کوئی دفعہ شامل نہیں، تاہم دفعات شامل ہوتیں تب بھی جے آئی ٹی بنانا حکومت کا اختیار ہوتا۔عدالت نے قرار دیا کہ ادارہ جاتی سبوتاژ کا مؤقف متنازع حقائق کا جائزہ لیے بغیر ثابت نہیں کیا جاسکتا، جبکہ آئینی دائرہ اختیار میں ایسے حقائق کا فیصلہ ممکن نہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ عدالتوں کو جاری تفتیش کی مانیٹر یا سپروائزر کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ اس سے تفتیش متاثر ہوسکتی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments