ایف بی آر زیر التوا جائز ٹیکس ریفنڈز فوری جاری کرے : خزانہ کمیٹی، تاخیر کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

ایف بی آر زیر التوا جائز ٹیکس ریفنڈز فوری جاری کرے : خزانہ کمیٹی، تاخیر کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

گزشتہ چھ سال سے کیمیکل کمپنی کے 27 کروڑ روپے کے ٹیکس ریفنڈز زیر التوا، ایک ماہ میں معاملہ حل کرینگے : ایف بی آر حکام رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں 197 ارب کے ریفنڈز جاری، سینیٹ کمیٹی نے گزشتہ پانچ سال کی تفصیل بھی طلب کرلی

  اسلام آباد (سیدقیصرشاہ)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے ایف بی آر کو زیرِ التوا جائز ٹیکس ریفنڈز فوری جاری کرنے اور اس معاملے پر 30 روز میں کمیٹی کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ کمیٹی نے غیر ضروری تاخیر کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ کمیٹی نے زیورات کی واپسی پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس، پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں فرائض انجام دینے والے طبی  عملے کے اعزازیے ، غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس اور دیگر مالی و بینکاری امور کا بھی جائزہ لیا۔

کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا۔ ایک متاثرہ کیمیکل کمپنی کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ چھ سال سے 27 کروڑ روپے سے زائد کے ٹیکس ریفنڈز زیر التوا ہیں۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ ریفنڈز میں تاخیر سے کاروباری اداروں کے کیش فلو پر منفی اثر پڑتا ہے ، اس لیے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے ۔چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ نئے نظام کے تحت ریفنڈز 72 گھنٹوں میں جاری ہونا تھے ۔ ایف بی آر حکام نے یقین دہانی کرائی کہ متعلقہ کمپنی کے ریفنڈز کا معاملہ ایک ماہ میں حل کردیا جائے گا۔ کمیٹی نے ایف بی آر کو ریفنڈ جاری کرکے 30 روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

سینیٹر طلحہ محمود نے ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کے لیے مزید سہولت دوست ادارہ بنانے پر زور دیتے ہوئے گزشتہ پانچ سال کے ٹیکس ریفنڈز کی تفصیلات طلب کرلیں۔ ایف بی آر حکام کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران تقریباً 197 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 157 ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے تھے ۔ اس طرح رواں مالی سال ریفنڈز کی ادائیگی میں تقریباً 40 ارب روپے اضافہ ہوا ہے ۔ حکام نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے متعلق شرط کے تحت ایف بی آر 390 ارب روپے سے زائد کے ریفنڈز اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، اس لیے ریفنڈز طویل عرصے تک روکے نہیں جاسکتے۔

سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ اگر کسی ٹیکس دہندہ کو دو سال بعد ریفنڈ ملتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ریفنڈ واقعی واجب الادا تھا۔ انہوں نے غیر ضروری تاخیر کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ انٹرَسٹمنٹ سکیم کے تحت مطلوبہ کسٹمز دستاویزات مکمل ہونے کے بعد غیر فروخت شدہ زیورات کی درآمد سیلز ٹیکس سے مستثنٰی ہے ۔ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ برآمدات ٹیکس سے مستثنٰی ہیں تاہم سیلف کنسائنمنٹ سکیم کے تحت غیر فروخت شدہ سونا اور زیورات واپس لانے پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جاتا ہے جس سے برآمد کنندگان پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے معاملے کی مزید وضاحت اور قابل قبول حل کے لیے وزارت تجارت کے حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ زیورات کے شعبے کو درپیش مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کیا جاسکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...