حوثیوں کو روکیں :پاکستان نے سعودی پیغام ایران کو پہنچا دیا
ہمارا حوثیوں پر کنٹرول نہیں :ایران ، فی الحال سفارتی حل تلاش کیا جائیگا :سفارتکار
انقرہ (رائٹرز)سعودی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کا ایک انتباہی پیغام ایران تک پہنچایا ہے جس میں یمن کے حوثی اتحادیوں کو کنٹرول کرنے کا کہا گیا ہے ، تاکہ اس بحران کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کے سالوں بعد پاکستان کی اس مداخلت نے حوثی حملوں کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے ۔ تہران کے لیے پیغام واضح ہے : حوثیوں کو لگام دیں ورنہ ایک پراکسی تنازع کو ایک بڑے علاقائی سکیورٹی بحران میں بدلنے کا خطرہ لیں۔ایک سینئر علاقائی سفارت کار نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کو یہ پیغام پہنچایا ہے اور تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب پر حوثی حملوں کو روکے ۔ ایک سینئر ایرانی اہلکار نے تصدیق کی کہ پاکستان نے منگل کو تہران کو یہ پیغام پہنچایا اور تہران کا جواب یہ تھا کہ "ایران حوثیوں کو کنٹرول نہیں کرتا"۔
علاقائی سفارت کار کے مطابق اسلام آباد حوثیوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے اس سے پہلے کہ صورتحال اس حد تک بگڑ جائے جہاں ریاض پاکستان پر اپنا دفاع کرنے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا دباؤ ڈالے ۔ سفارت کار نے رائٹرز کو بتایا: "پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ ہے ، لیکن مجھے امید ہے کہ صورتحال اس نہج پر نہیں پہنچے گی جہاں پاکستان کو عملًا آگے آنا پڑے ۔ وہ فی الحال سفارتی حل تلاش کرے گا۔"ایک پاکستانی ذریعہ نے بتایا کہ سعودی حکام نے اپنے ردِعمل کو مربوط کرنے کے لیے ریاض میں سینئر پاکستانی اور ترکی کے ملٹری نمائندوں سے ملاقات کی۔ ذریعہ نے مزید کہا کہ تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کی افواج یمن میں داخل نہیں ہوں گی اور کوئی بھی جوابی کارروائی سعودی سر زمین سے کی جائے گی۔ایک دوسرے پاکستانی ذریعہ نے کہا کہ جوابی حملوں میں شامل ہونے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاض کے ساتھ ان کا ملٹری معاہدہ دفاعی ہے اور صرف سعودی سر زمین کی حفاظت تک محدود ہے ۔ ذریعہ نے بتایا کہ پاکستانی افواج سعودی عرب کے اندر فوجی، تکنیکی، زمینی یا فضائی معاونت فراہم کر سکتی ہیں، لیکن وہ غیر ملکی سر زمین پر جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments